LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آبنائے ہرمز کی بندش، بحران سنگین ہونے لگا سفیرِ پاکستان کی چیئرمین امریکی خارجہ امور کمیٹی سے ملاقات؛ خطے میں امن کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف صومالیہ کی یرغمال پاکستانیوں کی بحفاظت وطن واپسی کی یقین دہانی امریکہ آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کیلئے سرگرم آج ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم شدید گرم اور خشک رہنے کا امکان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، انڈیکس ایک لاکھ 63 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم

ایرانی حملے جاری رہے تو نقصان کا خود ذمہ دار ہوگا: سعودی عرب

Web Desk

9 March 2026

سعودی عرب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے حملے جاری رہے تو اس کے نتیجے میں سب سے زیادہ نقصان خود تہران کو برداشت کرنا پڑے گا۔

سعودی وزارت خارجہ نے ایران کی جانب سے سعودی عرب اور دیگر خلیجی، عرب اور اسلامی ممالک پر کیے گئے حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہیں گھناؤنا قرار دیا ہے۔

سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جاری کشیدگی کے دوران اپنی پہلی اموات کی بھی تصدیق کی ہے۔ حکام کے مطابق ایک گولہ رہائشی علاقے میں گرنے سے ایک بھارتی اور ایک بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہو گئے جبکہ 12 دیگر بنگلہ دیشی زخمی ہو گئے۔

وزارت خارجہ کے مطابق شہری مقامات، ایئرپورٹس اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانا خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے اور ایرانی حملے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

سعودی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف سعودی سرزمین استعمال نہیں ہوئی۔ بیان میں کہا گیا کہ ایرانی حملوں کا تسلسل خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور اگر ایران نے یہی رویہ برقرار رکھا تو اس کے علاقائی تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

سعودی عرب نے تنبیہ کی ہے کہ اگر ایران نے اپنا رویہ تبدیل نہ کیا تو اس کے سب سے زیادہ نتائج اور نقصان خود ایران کو ہی بھگتنا پڑے گا۔