LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی پرچم بردار بحری جہاز کے عملے کے 6 ارکان رہا صدر پیوٹن کی 9 مئی کو یوکرین کے ساتھ عارضی جنگ بندی کی پیشکش امریکی بحری بیڑا جیرالڈ فورڈ کی مرمت کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے واپسی سندھ بھر میں دفعہ 144 کی مدت میں توسیع، جلسے جلوس اور احتجاج پر پابندی برقرار امریکی مرکزی بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا،شرحِ سود برقرار ‘ایران جلد ہوش کے ناخن لے’، ٹرمپ نے بندوق تھامے ’اے آئی جنریٹڈ‘ فوٹو شیئر کردی پاکستان میں کرپشن بارے آئی ایم ایف رپورٹ معتصب، نامناسب ہے: چیئرمین نیب بلاول بھٹو زرداری سے ازبکستان کے نووئی ریجن کے گورنر کی ملاقات پاکستان کی کوششوں سے جنگ بندی ہوئی، توسیع بھی کی گئی جو تاحال برقرار ہے: وزیراعظم پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت، پاک فوج کا بھرپور جواب وزیراعظم سے کابینہ ارکان کی ملاقاتیں،وزارتوں سے متعلقہ اُمور پر تبادلہ خیال وفاقی کابینہ کا اجلاس، مشرقِ وسطیٰ تنازع میں پاکستان کی کوششوں کا جائزہ بانی پی ٹی آئی بلاوجہ جیل میں ہیں، نظریہ قید نہیں کیا جا سکتا: سہیل آفریدی قدرتی آفات کے تباہ کن اثرات کم کرنے کیلئے مضبوط انفراسٹرکچر ناگزیر ہے: وزیراعظم پاکستان سٹاک مارکیٹ میں 2 روز کی مندی کے بعد آج مثبت رجحان

ایران پر جتنا دباؤ بڑھے گا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا: ایرانی صدر

Web Desk

8 March 2026

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر جتنا زیادہ دباؤ ڈالا جائے گا اس کا ردعمل بھی اتنا ہی سخت ہوگا۔

ایرانی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران دھونس، دھمکیوں، ناانصافی اور جارحیت کے سامنے کبھی نہیں جھکے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دے گا۔

مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ دشمن جو خواب دیکھ رہا ہے ایران انہیں ڈراؤنے خواب بنا دے گا۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ ایران خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ اور مثبت تعلقات کا خواہاں ہے تاہم یہ خواہش کسی بھی صورت میں اپنے دفاع کے حق سے دستبرداری نہیں ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ حملوں میں ایران نے ہمسایہ ممالک کو نشانہ نہیں بنایا بلکہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو ہدف بنایا۔

ایرانی صدر کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد خطے میں موجود امریکی فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنانا تھا۔