LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
لطف آباد میں گھر کی دوسری منزل پر پراسرار آتشزدگی، بیوہ ماں اور دو کمسن بیٹیاں جاں بحق، قتل کا شبہ اسرائیلی انتخابات: ابتدائی نتائج میں نیتن یاہو اتحاد کی برتری، اکثریت سے دور شہباز شریف نے مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا حکومت اور پیپلز پارٹی مذاکرات کا دوسرا دور ختم، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق سعودی سفیر کی خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ سہیل آفریدی سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری کا حکم نامہ جاری برآمدات میں اضافے کیلئے جی ایس پی پلس فریم ورک سے بھرپور استفادہ کیا جائے: اسحاق ڈار بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے 6 رفقاء کی فہرست جیل حکام کو جمع روہڑی کے قریب ایل پی جی باؤزر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق، 4 زخمی مصنوعی ذہانت سے سرکاری اخراجات کم کرنے کا منصوبہ، ہزاروں نوکریاں ختم ہوں گی حوثی ملیشیا کا عدن ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملہ روس اور ایران کے درمیان 8 جوہری پاور یونٹس کی تعمیر کے معاہدوں پر دستخط گھریلو تنازع پر بھائی نے فائرنگ کرکے دو بہنوں کو قتل کردیا ایران کا مستقبل سپریم لیڈر کی ہدایات کے مطابق ہوگا، صدر مسعود پزشکیان انٹربینک میں روپے کی قدر میں بہتری، ڈالر مزید سستا ہوگیا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، ایک ہفتے میں سرمایہ کاروں کے 1232 ارب روپے ڈوب گئے

Web Desk

7 March 2026

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں گزشتہ ہفتے شدید مندی دیکھنے میں آئی جس کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 10 ہزار 566 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد انڈیکس 6.3 فیصد تنزلی کے ساتھ ہفتے کے اختتام پر 157,496 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

اعداد و شمار کے مطابق 100 انڈیکس پورے ہفتے کے دوران 10 ہزار 218 پوائنٹس کے بینڈ میں ٹریڈ کرتا رہا۔ اس دوران انڈیکس کی بلند ترین سطح 161,476 پوائنٹس جبکہ کم ترین سطح 151,258 پوائنٹس ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور مجموعی طور پر تقریباً 1 ہزار 232 ارب روپے کی سرمایہ کاری ڈوب گئی۔ اسی دوران مارکیٹ کیپیٹلائزیشن میں بھی نمایاں کمی ہوئی اور یہ 1 ہزار 231 ارب 76 کروڑ روپے کم ہو کر 17 ہزار 698 ارب 43 کروڑ روپے کی سطح پر آ گئی۔

کاروباری سرگرمیوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ کا اوسط یومیہ تجارتی حجم 9.8 فیصد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 65 کروڑ 80 لاکھ شیئرز ہو گیا جبکہ اوسط یومیہ تجارتی مالیت 18 فیصد اضافے کے ساتھ 13 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق اسٹاک مارکیٹ کا آئندہ رجحان خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال اور آئندہ آنے والی مانیٹری پالیسی پر منحصر ہوگا۔