LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
گل پلازہ سانحہ، جوڈیشل کمیشن نے فریقین کی ذمہ داریوں کا تعین کر دیا کراچی کے حالات موہنجوڈارو سے بھی بدتر ہیں: فاروق ستار مولانا فضل الرحمان 30 اگست کو اہم دورہ سندھ پر سکھر پہنچیں گے ڈیفنس رہائشی عمارت جھگڑا کیس، دو ملزمان کی ضمانت منظور حکومت پنجاب کا تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ فوجی اہلکاروں سے کرانے کا فیصلہ پاکستان ڈیجیٹل معیشت کیلئے تیار ہے: بلال بن ثاقب پمز سانحے کے بعد وفاقی سرکاری ہسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم کمالیہ یونیورسٹی میں زرعی فضلے سے توانائی بنانے کے منصوبے کا آغاز پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں مصنوعی ذہانت کا مضمون لازمی قرار دینے کا فیصلہ یوکرینی صدر زیلنسکی کا فوج کو روس پر روزانہ ایک ہزار ڈرون حملے کرنے کا حکم برآمدات میں اضافے کیلئے نجی شعبے کو بھی آگے آنا ہوگا: ہارون اختر خان معروف کوہ پیما سید علی شاہ کی میت 31 دن بعد فلک سیر کی چوٹی سے تلاش کرلی گئی آر ایل این جی کی عدم دستیابی سے بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی: پاور ڈویژن پاکستان کو دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت اور جی 20 کا حصہ بنانا ہدف ہے: اسحاق ڈار پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت ہمارے نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے: مصدق ملک

سرحد پر کشیدگی میں شدت، پاکستان کا آپریشن ،  افغان طالبان کے جوابی کارروائی کے دعوے

Web Desk

26 February 2026

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان کی جانب سے سرحدی علاقوں میں کی گئی بلااشتعال فائرنگ کا فوری اور مؤثر جواب دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے۔ وزارتِ اطلاعات کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران افغان طالبان کے تقریباً 44 طالبان اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

سرکاری بیان کے مطابق چترال، خیبر، مہمند، کرم اور باجوڑ سیکٹرز میں جوابی کارروائی کی گئی اور متعدد چوکیاں اور سازوسامان تباہ کیے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی کہ جھڑپوں میں پاکستان فوج کے دو اہلکار جان سے گئے جبکہ تین زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے پاکستان کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا اور بعض پر قبضہ بھی کیا۔ تاہم پاکستانی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی چوکی پر قبضہ نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی فوجی گرفتار یا شہید ہوا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے سرحد پار کارروائی میں مخالف فریق کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

ادھر باجوڑ میں مقامی پولیس اہلکار کے مطابق سرحدی کشیدگی کے دوران ایک خاتون جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوئے جنہیں خار اسپتال منتقل کیا گیا۔

سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر طورخم بارڈر پر افغانستان واپس جانے والے افغان خاندانوں کی تمام گاڑیاں زیرو پوائنٹ سے واپس کر دی گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق اپر کرم کے گوی، بوڑکی اور حرلاچی بارڈر جبکہ لوئر کرم کے شورکی اور شہدانوں بارڈر پر بھی کراس فائرنگ کی اطلاعات ہیں۔

دونوں جانب سے بھاری نقصانات کے دعوے کیے جا رہے ہیں تاہم ان کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔