LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
بلوچستان کے عوام کا امن، خوشحالی اور فلاح ریاستی کوششوں کا مرکز ہے: فیلڈ مارشل امریکی سینٹرل کمانڈ کی ایران کے 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کی تصدیق نئے صوبوں کا معاملہ محاذ آرائی نہیں، مشاورت سے حل ہونا چاہیے: چودھری شجاعت یونان میں فضائی مظاہرے کے دوران ایف-4 فینٹم جنگی طیارہ تباہ امریکا کی اقتصادی جنگ کا مقابلہ کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا: ایرانی نائب صدر شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس میں پوتن کی متحرک سفارت کاری نمایاں کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت نئے انتظامی یونٹس روک نہیں سکتی: محسن نقوی سانحہ گل پلازا: پولیس کا چالان عدالت میں جمع، ایسوسی ایشن مرکزی ذمہ دار قرار آئین پامال کر کے جتنے مرضی چھوٹے صوبے بنالیں کوئی فائدہ نہیں: خواجہ سعد رفیق سیف گیمز 2027 کی تاریخیں مقرر، 28 کھیلوں میں 6 ہزار سے زائد کھلاڑی و آفیشلز شریک ہوں گے پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، روٹی 10 روپے کی ہو: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی پریس کانفرنس مشرقِ وسطیٰ کے عوام بیرونی مداخلت مسترد کر دیں: چینی صدر نائیجیریا میں پیٹرول چوری کے دوران زہریلی گیس سے 37 افراد ہلاک محکمہ موسمیات کی بالائی پنجاب، اسلام آباد اور خیبر پختونخوا میں شدید بارش کی پیشگوئی پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر اور سفارت کاری عالمی امن کیلئے ناگزیر ہے: رضوان سعید

غزہ سے یکجہتی، اروندھتی رائے کا برلن فلم فیسٹیول سے دستبرداری کا اعلان

Web Desk

14 February 2026

بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے نے برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا ہے، جس کی وجہ انہوں نے جیوری ارکان کی جانب سے غزہ کے بارے میں دیے گئے ناقابل معافی بیانات بتائی ہے۔

بھارت کے اخبار دی وائر میں لکھتے ہوئے اروندھتی رائے نے کہا کہ فیسٹیول کی جیوری کے ارکان، جن میں جیوری کے چیئرمین اور معروف ہدایتکار وِم وینڈرز بھی شامل ہیں، کا یہ کہنا کہ ’فن کو سیاسی نہیں ہونا چاہئے‘ انتہائی حیران کن ہے۔

بھارتی دانشور مصنفہ نے لکھا کہ یہ انسانیت کے خلاف جرم پر گفتگو کو بند کرنے کا ایک طریقہ ہے، جبکہ یہ جرم ہماری آنکھوں کے سامنے جاری ہے، میں صدمے اور نفرت کا شکار ہوں، فنکاروں، مصنفوں اور فلم سازوں کو جنگ روکنے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنی چاہئے۔

اروندھتی نے واضح الفاظ میں کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہوا اور جو جاری ہے، وہ فلسطینی عوام کی نسل کشی ہے جو اسرائیلی ریاست کر رہی ہے، یہ جنگ امریکہ اور جرمنی سمیت یورپ کے کئی ممالک کی حمایت اور مالی مدد سے جاری ہے، جس سے یہ ممالک بھی اس جرم میں شریک بنتے ہیں۔

خیال رہے کہ برلن فلم فیسٹیول کے افتتاحی پینل کے دوران ایک صحافی نے جیوری ارکان سے جرمن حکومت کی جانب سے غزہ میں نسل کشی کی حمایت اور انسانی حقوق کے منتخب اطلاق پر ان کی رائے پوچھی تھی جس پر جیوری چیئرمین وِم وینڈرز نے جواب دیا کہ فلم سازوں کو سیاست سے دور رہنا چاہئے، اگر ہم مکمل طور پر سیاسی فلمیں بنائیں تو ہم سیاست کے میدان میں داخل ہو جائیں گے، جبکہ ہم سیاست کے مخالف توازن ہیں، ہمیں عوام کا کام کرنا چاہئے، سیاستدانوں کا نہیں۔

جیوری کی ایک اور رکن، پولینڈ کی فلم پروڈیوسر ایوا پُشچِنِسکا نے کہا کہ ایسا سوال پوچھنا کچھ حد تک غیر منصفانہ ہے، کیونکہ فلم ساز اس بات کے ذمہ دار نہیں ہو سکتے کہ حکومتیں اسرائیل یا فلسطین کی حمایت کریں، دنیا میں کئی دوسری جنگیں بھی ہیں جہاں نسل کشی ہو رہی ہے مگر ہم ان پر بات نہیں کرتے۔

اروندھتی رائے اس فیسٹیول میں شرکت کرنے والی تھیں، جو 12 سے 22 فروری تک جاری رہتا ہے، کیونکہ ان کی 1989 کی فلم ’’اِن وچ اینی گیوز اٹ دوز وُنز‘‘ کو کلاسکس سیکشن میں نمائش کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ جرمنی، جو امریکہ کے بعد اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، نے فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

2024 میں 500 سے زائد بین الاقوامی فنکاروں، فلم سازوں، مصنفوں اور ثقافتی کارکنوں نے جرمنی کے سرکاری مالی تعاون سے چلنے والے ثقافتی اداروں کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارے ایسے میکارتھی طرز کی پالیسیوں پر عمل کر رہے ہیں جو اظہارِ رائے کی آزادی، خاص طور پر فلسطین سے یکجہتی کے اظہار، کو دبانے کا سبب بن رہی ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ثقافتی ادارے سوشل میڈیا، درخواستوں، کھلے خطوط اور عوامی بیانات کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ فلسطین کی حمایت کرنے والے ثقافتی کارکنوں کو الگ کیا جا سکے، کیونکہ وہ جرمنی کی اسرائیل کی غیر مشروط حمایت سے متفق نہیں ہوتے۔