LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایاز صادق کے چیمبر میں پیپلز پارٹی اور حکومتی وفود کی ملاقات، نئے بلز پر تحفظات کا اظہار امریکا کی مغربی ایشیا کو سکیورٹی ضمانتیں دینے میں ناکامی واضح ہوچکی: محسن رضائی پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہتے ہیں، حکومت کو 10 روز کی مہلت دے رہے: حافظ نعیم الرحمٰن فیصلہ سنا چکے، سندھ کی قسمت کا فیصلہ یہاں کے عوام ہی کر سکتے ہیں: بلاول بھٹو برطانیہ میں امریکی ایئربیس واقعے میں ملوث دو افراد پر فرد جرم عائد اسلام آباد ماڈل جیل کی تعمیر مکمل، افتتاح کے بعد قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا: محسن نقوی 9 مئی جلاؤ گھیراؤ کیس: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے حماد اظہر کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ریلوے نے آؤٹ سورس ٹرینوں میں بھی رعایتیں دینا لازمی قرار دے دیا پرائیویٹ حج اسکیم میں 80 فیصد بکنگ مکمل: عازمین نے 57.5 ارب روپے جمع کروا دیے، وزارتِ مذہبی امور کی ہدایت قومی اسمبلی میں یومِ سیاہ کشمیر پر بھارت کے خلاف مذمتی قرار داد منظور ملتان: زیرتعمیر عمارت کی چھت گرنے سے مزدور ملبے تلے دب گئے، ایک جاں بحق سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، معلوماتی راہداری عوام کو قریب لائےگی: عطا تارڑ وکلاء نظامِ انصاف پر عوامی اعتماد مضبوط بنانے میں کردار ادا کریں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی پاکستان نے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کی توسیع کی مخالفت کر دی قصور: 2 نابالغ بچیوں کے زبردستی نکاح کی کوشش ناکام بنا دی گئی

پانی میں موجود نمک خاموشی سے کروڑوں افراد کو ہائی بلڈ پریشر کا مریض بنانے لگا

Web Desk

28 January 2026

ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پینے کے پانی میں موجود سوڈیم یا نمک ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے۔ فلوریڈا سٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق پینے کے پانی میں زیادہ مقدار میں نمک اور ہائی بلڈ پریشر کے درمیان تعلق موجود ہے، خاص طور پر وہ افراد جو ساحلی علاقوں میں رہتے ہیں۔

محققین نے بتایا کہ مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرنا نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی عنصر کی نشاندہی کرنا ہے جو متعدد افراد میں ہائی بلڈ پریشر کی وجہ بن رہا ہے۔ امریکہ میں بیشتر افراد اپنے جسم میں پہلے ہی ضرورت سے زیادہ مقدار میں نمک لیتے ہیں، اور پانی میں موجود اضافی سوڈیم اس مقدار کو مزید بڑھا دیتا ہے۔

اس تحقیق میں امریکہ، بنگلادیش، ویتنام، کینیا، آسٹریلیا اور دیگر یورپی ممالک سے تعلق رکھنے والے 74 ہزار افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج کے مطابق جو افراد زیادہ نمک والے پانی کا استعمال کرتے ہیں، ان کا بلڈ پریشر دیگر افراد کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے مطابق نمکین یا کھارے پانی کے استعمال سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ 26 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اور یہ تعلق ساحلی علاقوں میں زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ اگرچہ بظاہر یہ خطرہ زیادہ محسوس نہیں ہوتا، لیکن معمولی بلڈ پریشر میں اضافہ بھی صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

دنیا بھر میں تین ارب سے زائد افراد ساحلی علاقوں یا ان کے قریب رہتے ہیں، جہاں زیر زمین پانی پینے کا بنیادی ذریعہ ہے، اور ایسے اکثر پانی میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔