LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان اور قطر کا تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق ترکیہ میں عالمی ملٹری ڈرون مقابلے میں پاکستان کی دوسری پوزیشن اسحاق ڈار سے چینی سفیر کی ملاقات، خطے میں پائیدار امن کیلئے مذاکرات پر زور مریم نواز کا جون 2027 تک 5734 واٹرفلٹریشن پلانٹ مکمل کرنے کا ہدف شکاگو میں پاک-امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026 کا انعقاد: پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے امریکی مارکیٹ کے ساتھ شراکت داری بڑھانے پر زور ریاض ایئرپورٹ پر دو ہفتے بعد پروازیں بحال، حوثیوں کی دوبارہ حملوں کی دھمکی ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا، ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے: اوباما نے ٹرمپ کا بیانیہ مسترد کردیا امریکا اور اسرائیل کے انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، بلومبرگ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، پاسداران انقلاب اسرائیل کے مقبوضہ علاقے ایک گھنٹے میں ناقابل رہائش بن جائیں گے، ایران نے خبردار کر دیا ایران پر نئے حملے پر غور کر رہے ہیں، شاید کل ہی شروع کر دیں: امریکی صدر نائیجیریا میں مسلح افراد کے ایک گاؤں پر حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک یوکرین میں سٹار لنک اور سٹار شیلڈ کی سروس بحال، فوجی آپریشنز میں بہتری کی امید امریکا کی سٹار لنک سروس سے متعلق مختلف ممالک میں مداخلت، رائٹرز کا انکشاف اٹلی: مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں

غزہ بورڈ آف پیس پر پاکستان سمیت 20 ممالک کے دستخط، جنگیں رکوا کر کروڑوں جانیں بچائیں: ٹرمپ

Web Desk

22 January 2026

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صرف 10 ماہ کے دوران 8 جنگیں رکوائیں جن میں جوہری طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ ان کوششوں سے کروڑوں جانیں بچ گئیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر غزہ بورڈ آف پیس پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان بھی شامل ہوا۔ پاکستان کی جانب سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بورڈ آف پیس پر دستخط کیے، جبکہ تقریب کے دوران صدر ٹرمپ اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان غیر رسمی گفتگو اور سرگوشیاں بھی توجہ کا مرکز بنیں۔

غزہ بورڈ آف پیس پر امریکا سمیت 20 ممالک نے دستخط کیے، جن میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ، انڈونیشیا، آذربائیجان، ارجنٹائن، ہنگری، بلغاریہ، قازقستان، کوسوو اور پیراگوئے شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف سے دستخط کرنے پر اظہارِ تشکر بھی کیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے امریکا سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے اور امریکی وزیر خارجہ کی کاوشوں سے اس اہم تقریب کا انعقاد ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ناممکن کو ممکن بنایا اور امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی کامیابی کے لیے پرامید ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ غزہ پیس بورڈ میں مزید ممالک شامل ہونا چاہتے ہیں، یوکرین اور روس کی جنگ میں ہزاروں افراد مارے جا رہے ہیں، تاہم انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بات چیت کا دعویٰ بھی کیا۔

پاک بھارت کشیدگی کا دوبارہ ذکر کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان جنگ رکوانا ایک بڑی کامیابی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور ایران، سربیا اور کوسوو، تھائی لینڈ اور کولمبیا کے تنازعات ختم کرائے جبکہ مصر اور ایتھوپیا کے درمیان تنازع کے حل میں بھی امریکا نے کردار ادا کیا۔

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران دو ماہ میں جوہری طاقت بن سکتا تھا، تاہم امریکا نے اس کی جوہری صلاحیت ختم کر دی۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح ہونا ہوگا، اگر ایسا نہ ہوا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں آج دنیا زیادہ محفوظ ہے، امریکی فوج دنیا کی طاقتور ترین فوج ہے، امریکا ایران سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں اور امریکا عالمی اداروں کے ساتھ مل کر امن کے لیے کام جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کو غیر مسلح کرکے اس کی تعمیر نو کی جائے گی اور امریکا کی ترقی دنیا کی ترقی کا باعث بنے گی۔