LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا، ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے: اوباما نے ٹرمپ کا بیانیہ مسترد کردیا امریکا اور اسرائیل کے انتخابات کے بعد ٹرمپ ایران پر بڑے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں، بلومبرگ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، پاسداران انقلاب اسرائیل کے مقبوضہ علاقے ایک گھنٹے میں ناقابل رہائش بن جائیں گے، ایران نے خبردار کر دیا ایران پر نئے حملے پر غور کر رہے ہیں، شاید کل ہی شروع کر دیں: امریکی صدر نائیجیریا میں مسلح افراد کے ایک گاؤں پر حملے میں کم از کم 40 افراد ہلاک یوکرین میں سٹار لنک اور سٹار شیلڈ کی سروس بحال، فوجی آپریشنز میں بہتری کی امید امریکا کی سٹار لنک سروس سے متعلق مختلف ممالک میں مداخلت، رائٹرز کا انکشاف اٹلی: مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین میں شدید جھڑپیں فرانس میں بڑھتی مہنگائی، ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران متعدد شہروں میں جھڑپیں یمنی فوج کی 736 کارروائیاں، حوثیوں کے 307 کمانڈر اور جنگجو ہلاک سعودی عرب کے صنعا پر فضائی حملے، 11 حوثی باغی ہلاک سعودی عرب میں حوثیوں کے داغے گئے 2 بیلسٹک میزائلز فضا میں ہی تباہ سرگودھا: گرفتار ٹیچر کے موبائل سے درجن سے زائد کمسن بچوں کی نازیبا ویڈیوز برآمد لاڑکانہ: پیٹرول پمپ میں خوفناک آتشزدگی، آئل ٹینکر سمیت متعدد گاڑیاں جل کر راکھ

امریکا اور اسرائیل کی جارحیت پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، پاسداران انقلاب

Web Desk

25 October 2026

ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے انتہائی سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کے اثرات صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آئے گا، جس سے دیگر علاقائی ممالک کا مستقبل بھی شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

اپنے ایک اہم بیان میں بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے ایرانی قوم پر زور دیا کہ وہ درپیش محاذ آرائی کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے قومی اتحاد کو برقرار رکھیں اور ملکی صلاحیتوں پر کامل بھروسہ کریں۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس جنگ میں مکمل فتح حاصل کر کے ایک عالمی طاقت بن کر ابھرے گا۔

ترجمان پاسدارانِ انقلاب نے مزید کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری یہ کشمکش محض ایک فوجی محاذ تک محدود نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست تعلق ایرانی قومی شناخت، ثقافت، مذہب اور اسلامی تہذیب کے تحفظ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کی آزادانہ شناخت کو کمزور کرنے اور اپنی اقدار و نظام مسلط کر کے ملک کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔