LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سیہون شریف: گیس پائپ لائن پھٹنے سے کئی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کی سازش کا الزام، برطانیہ میں 2 ایرانی شہریوں پر فرد جرم عائد فرانس میں طلبا کا پرتشدد احتجاج، درجنوں سکول بند، پولیس سے جھڑپیں، کئی طالبعلم زخمی بلاول بھٹو کا حکومت اور اپوزیشن میں ملاقات کا خیر مقدم مونال ریسٹورنٹ گرانے کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز کے فیصلے پر نظرثانی کا تفصیلی فیصلہ جاری مذاکرات کے پیش نظر پارلیمنٹ ہاؤس میں سکیورٹی کے سخت انتظامات حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان حج 2027 کیلئے واجبات کی دوسری قسط جمع کروانے کی تاریخ کا اعلان شہریوں کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر 3 پولیس افسران ملازمت سے برطرف خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کیلئے مکمل تیار ہیں: فیصل کریم کنڈی ملکی معاشی مسائل کا حل برآمدات بڑھانے میں ہے: محسن نقوی وزیراعظم کا صومالیہ میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کے لواحقین کیلیے امداد کا اعلان آبنائے ہرمز میں کشیدگی، یورو زون میں مہنگائی 3 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ایران میں سڑک کنارے بم دھماکا، پاسداران انقلاب کے 5 اہلکار جاں بحق

کروڑوں کی جائیداد رکھنے والے خاموش بھکاری کی حیران کن کہانی

Web Desk

21 January 2026

بھارت میں گداگری سے جڑی ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی ہے، جہاں اندور کے مصروف بازار میں بیٹھنے والا ایک معذور بھکاری درحقیقت کروڑ پتی نکلا۔

ظاہری طور پر سادہ زندگی گزارنے والا یہ شخص منگی لال نہ کسی سے بھیک مانگتا تھا اور نہ ہی آواز دے کر توجہ حاصل کرتا تھا، بلکہ لوگ خود ہی اسے امداد دے دیا کرتے تھے۔

 

بھارتی میڈیا کے مطابق منگی لال روزانہ لوہے کی ایک ریڑھی پر خاموشی سے بیٹھا رہتا اور عام دنوں میں اسے بھیک سے چار سے پانچ سو روپے تک کی رقم مل جاتی تھی۔ تاہم اصل انکشاف اس وقت ہوا جب حکومت کی انسدادِ گداگری مہم کے دوران اس کے مالی معاملات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

 

تحقیقات میں پتا چلا کہ منگی لال کی آمدن صرف بھیک تک محدود نہیں تھی۔ وہ دن میں ملنے والی رقم کو رات کے وقت بازار کے تاجروں کو ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے سود پر دے دیتا تھا اور باقاعدگی سے اس پر سود وصول کرتا تھا، جو اس کی اصل کمائی کا ذریعہ بن چکا تھا۔

مزید چھان بین کے بعد حکام پر یہ حقیقت بھی آشکار ہوئی کہ منگی لال کے پاس تین ذاتی مکانات، تین آٹو رکشے اور ایک کار موجود ہے۔ اس کے آٹو رکشے کرائے پر چلتے ہیں جبکہ کار کے لیے اس نے مستقل ڈرائیور بھی رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ معذوری کی بنیاد پر اسے سرکاری رہائش بھی الاٹ کی گئی تھی۔

حکام نے کروڑوں کے اثاثے سامنے آنے کے بعد منگی لال کو شیلٹر ہاؤس منتقل کر دیا ہے، جبکہ اس معاملے کو انسدادِ گداگری پالیسی کے تحت مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔