LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ امریکی ایوان نمائندگان میں روس پر پابندیاں سخت کرنے کا بل منظور اقوام متحدہ کا مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن خطرات روکنے کیلئے سخت اقدامات کا مطالبہ

27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ منظرِ عام پر آگیا

Web Desk

8 November 2025

 وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیمی بل 2025 کا مسودہ جاری کر دیا ہے، جس میں 48 شقوں میں مختلف ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ بل کے مطابق ملک میں ایک نئی “وفاقی آئینی عدالت” (Federal Constitutional Court) قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو سپریم کورٹ سے علیحدہ ہوگی۔
ترمیمی بل کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کا صدر مقام اسلام آباد میں ہوگا، جبکہ اس کے چیف جسٹس کی مدتِ ملازمت 3 سال اور ججز کی ریٹائرمنٹ عمر 68 سال مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ عدالت کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تنازعات سننے، آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات سننے کا اختیار حاصل ہوگا۔
بل کے تحت آئین کے آرٹیکل 184 کو ختم کرنے اور اس کے اختیارات نئی وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 175 میں بھی ترمیم شامل ہے جس کے تحت سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات محدود ہو جائیں گے۔
آرٹیکل 175-A میں ججز کی تقرری کا نیا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے جس کے مطابق جوڈیشل کمیشن میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت، دونوں کے چیف جسٹس شامل ہوں گے۔ مزید یہ کہ دونوں عدالتوں کے فیصلے ایک دوسرے پر لازم نہیں ہوں گے، تاہم آئینی عدالت کے فیصلے تمام عدالتوں پر لازم ہوں گے (آرٹیکل 189 میں ترمیم)۔
بل میں سپریم جوڈیشل کونسل کی تشکیل نو کی بھی تجویز دی گئی ہے، جس میں دونوں عدالتوں کے چیف جسٹس ارکان کے طور پر شامل ہوں گے۔
دفاعی امور سے متعلق آرٹیکل 243 میں بڑی ترامیم تجویز کی گئی ہیں۔ اس کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے آرمی چیف کو “چیف آف ڈیفنس فورسز” کا اضافی عہدہ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ ساتھ ہی “فیلڈ مارشل” کو قومی ہیرو کا درجہ دینے اور تاحیات مراعات فراہم کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔
دیگر ترامیم میں آرٹیکل 93 کے تحت وزیراعظم کو سات مشیروں کی تقرری کا اختیار دیا گیا ہے، جبکہ آرٹیکل 130 میں وزرائے اعلیٰ کے مشیروں کی تعداد میں بھی اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔