اقوام متحدہ کا مصنوعی ذہانت کے ممکنہ تباہ کن خطرات روکنے کیلئے سخت اقدامات کا مطالبہ
Web Desk
16 September 2026
اقوام متحدہ نے جدید مصنوعی ذہانت (AI) کے ممکنہ تباہ کن خطرات کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر سخت قانونی اور انتظامی اقدامات کا فوری مطالبہ کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے خبردار کیا ہے کہ سرکردہ اے آئی کمپنیوں کی رضاکارانہ خود نگرانی موجودہ نقصانات سے نمٹنے اور خودکار اے آئی ماڈلز کو انسانی حفاظتی نظام سے باہر نکلنے سے روکنے کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ انہوں نے ایک خط میں واضح کیا کہ زیادہ سے زیادہ طاقتور اے آئی ماڈلز کی دوڑ انسانوں کی زندگی کے ہر شعبے کے لیے سنگین تباہ کن خطرات پیدا کر رہی ہے۔
وولکر ترک نے فرنٹیئر اے آئی کمپنیوں کی میزبانی کرنے والے ممالک—خصوصاً امریکہ اور چین—پر زور دیا کہ وہ ان کمپنیوں کے لیے سنگین واقعات کی رپورٹنگ، صلاحیتوں کی سائنسی تصدیق اور انسانی حقوق سے متعلق جائزہ لازمی قرار دیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ایک ملک یا کمپنی دنیا کے لیے خطرات کا تعین نہیں کر سکتی، لہٰذا باہمی مسابقت کو ضوابط کی کمی کا باعث نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے ان خدشات کو مسترد کر دیا کہ حفاظتی اقدامات سے جدت سست ہوتی ہے اور کہا کہ غلط معلومات کے پھیلاؤ، روزگار کے خاتمے، صحت اور سیکیورٹی سے متعلق فیصلے شفاف انداز میں انسانی حقوق کو مدنظر رکھ کر کیے جانے چاہئیں
متعلقہ عنوانات
حرمین شریفین کی حرمت، سعودی عرب کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا: دفتر خارجہ
17 September 2026
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے حوثیوں سے براہِ راست رابطے کی تصدیق کردی
17 September 2026
حوثیوں کا سعودی جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ، اتحادی افواج کے کمیونیکیشن ٹاورز پر حملے
17 September 2026
ہونہار اور مستحق طلبہ کو میرٹ پر معیاری تعلیم کی فراہمی اولین ترجیح ہے، وزیراعظم
17 September 2026
ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، جنگ کے خاتمہ کے قریب ہیں: ٹرمپ
17 September 2026
مکہ مکرمہ کی حفاظت کیلئے کسی معاہدے کی ضرورت نہیں: خواجہ آصف
17 September 2026
سفارتی حل کیلئے تیار، قومی خود مختاری کا دفاع کریں گے: ایرانی وزیر خارجہ
17 September 2026
ایران جنگ: امریکی وزیر جنگ کا مواخذہ کرنیکی قرارداد ایوان میں پیش
17 September 2026