LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان سفارتی محاذ پر اہم کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، رانا قاسم نون پنجاب کابینہ نے 5850 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی اتحاد بین المسلمین پنجاب کمیٹی کا محرم میں امن وامان، بین المسالک ہم آہنگی پر اتفاق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہمارا 2 رکنی بنچ ہی کافی ہے: وفاقی آئینی عدالت وزیراعظم کی گلگت میں شمسی توانائی منصوبہ جلد ازجلد مکمل کرنے کی ہدایت ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا سوڈان میں خوراک کے بدلے جنسی زیادتی کا اعتراف توانائی بحران برقرار، سپلائی چین کا تعطل ختم ہونے میں وقت لگے گا: آئی ایم ایف محسن نقوی کی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات، خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو امریکی عزم کو جانچنے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے: ایرانی صدر ایرانی فوج کا معاہدے پر عملدرآمد کے دوران پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کا اعلان پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی حزب اللہ کا بھی ایران امریکا مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم کیلیفورنیا میں واقع ایڈورڈز اڈے پر امریکی فضائیہ کا بی-52 بمبار طیارہ تباہ ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ

پیپلز پارٹی نے صدر کیلئے تاحیات استثنیٰ اور نیب خاتمے کے مطالبات پیش کردیے

Web Desk

9 November 2025

اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم پر ن لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی، صدر کےلیے تاعمر استثنیٰ اور قومی احتساب بیورو کے خاتمے کا مطالبہ لے آئی۔

آئین کی شق 248 صدر کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی فوجداری کارروائی سے استثنیٰ دیتا ہے، اس حوالے سے درج ہے کہ ’’ کسی بھی عدالت میں صدر اور گورنر کے خلاف ان کے عہدے کی مدت کے دوران کسی بھی قسم کی کوئی فوجداری کارروائی نہ تو شروع ہو سکتی ہے اور نہ ہی جاری رہ سکتی ہے خواہ وہ کچھ بھی ہو‘‘ تاہم اس کے باوجود پیپلزپارٹی نے ان کے صدارتی عہدے کی مدت سے آگے تاعمر استثنیٰ کا تقاضا کرڈالا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر پارلیمنٹ اس کی منظوری دے دیتی ہے تو صدر کے خلاف نئی یا پرانی کوئی فوجداری کارروائی ان کے عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی نہیں ہوسکتی۔ پارٹی نے نیب ختم کرنے کا تقاضا بھی کیا ہے جو کہ میثاق جمہوریت کا حصہ بھی ہے جس پر پیپلزپارٹی اور نواز لیگ نے 2006 میں دستخط کیے تھے۔