LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
اسلام آباد کا نیا انتظامی نقشہ وزیراعظم کو پیش،27 رکنی اسمبلی اورچیف ایگزیکٹو بارے تجاویز شامل وزیراعلیٰ کی دہشتگردی کیخلاف گفتگو منفی انداز میں پیش کرنا افسوسناک: مریم اورنگزیب نیپال میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، پاکستان نے 100 ٹن امداد روانہ کردی کوٹری سٹیشن پر مال بردار ٹرین حادثے کا شکار ، ایک ریلوے ملازم جاں بحق گلگت بلتستان میں بادل پھٹنے سے سیلاب، شاہراہ قراقرم سمیت متعدد سڑکیں بند آج کا پاکستان مضبوط اور دفاع ناقابل تسخیر ہے: مریم نواز خیبرپختونخوا میں فورسز کی کارروائیوں میں بھارتی حمایت یافتہ 21 دہشت گرد ہلاک مولانا فضل الرحمٰن کی لاہور آمد، سیاسی صورتحال اور صوبوں کے معاملات پر گفتگو ایرانی ردعمل فوری اور تکلیف دہ ہوگا: باقر قالیباف کا امریکا کو تنبیہ ایران کی بحری ناکہ بندی، امریکی فوج نے 92 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں میں 4 افراد جاں بحق، 20 زخمی پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی فلسطینیوں کو جبری بے دخل کرنے کی مذمت پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ

استنبول اجلاس: غزہ کا انتظام فلسطینیوں کے حوالے کرنے کا مطالبہ، مشترکہ اعلامیہ جاری

Web Desk

3 November 2025

استنبول میں غزہ کی صورتحال پر اہم اجلاس کے بعد ترکیے، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ غزہ کا نظم و نسق فوری طور پر فلسطینی عوام کے منتخب نمائندوں کے سپرد کیا جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ:

  • اسرائیل جنگ بندی کی مکمل پابندی کرے اور انسانی امداد کی فراہمی میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں۔
  • کم از کم 600 امدادی ٹرک اور 50 ایندھن بردار گاڑیوں کو بلاتعطل غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے۔
  • خطے میں پائیدار امن کا قیام فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت اور اُن کی قومی نمائندگی کو تسلیم کیے بغیر ممکن نہیں۔
  • غزہ کا سیاسی و انتظامی کنٹرول کسی بیرونی طاقت نہیں بلکہ مقامی فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونا چاہیے۔
  • غزہ میں ایک غیرجانبدار امن فورس تشکیل دی جائے جو فیلڈ میں امن کی نگرانی اور انسانی امداد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

اعلامیے میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں، اور حالیہ حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریباً 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔

اجلاس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے پر مشاورت تھا۔ اجلاس کے بعد ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے پریس کانفرنس میں کہا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ پر کام جاری ہے، اور مکمل فریم ورک تیار ہونے کے بعد ہی اس حوالے سے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

یہ اجلاس نہ صرف غزہ کے بحران کے حل کی طرف ایک اہم سفارتی قدم سمجھا جا رہا ہے بلکہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ عالمی مؤقف کی مضبوطی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔