LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی عمران سرور نیشنل بینک آف پاکستان کے نئے صدر مقرر افغانستان سے بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی دراندازی ناکام، 15 ہلاک یسین ملک کا بھارتی عدلیہ پر اظہارِ عدم اعتماد، مقدمہ مزید لڑنے سے انکار انڈونیشیا میں حکومت کا مفت کھانا، تقریباً 800 افراد فوڈ پوائزننگ کا شکار پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز پاکستان نے یورو بانڈ کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کر لیے: وزیر خزانہ جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف آج ملک گیر ہڑتال مومنہ اقبال ہراسگی کیس: تفتیش میں ثاقب چڈھر اور اہلیہ سمیرا بے قصور قرار 100 سال میں امریکی کرنسی پر نمودار ہونے والے پہلے زندہ صدر نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت

جوا ایپس پروموشن کیس: عروب جتوئی کی قبل از گرفتاری ضمانت پر تحریری فیصلہ جاری

Web Desk

1 July 2026

آن لائن جوا کھیلنے والی ایپلی کیشنز (Gambling Apps) کی تشہیر اور پروموشن کے کیس میں نامزد معروف یوٹیوبر عروب جتوئی کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر عدالت نے اپنا تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

ایڈیشنل اینڈ سیشن جج نصرت علی صدیقی نے فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے کے بعد دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ سماعت کے دوران ملزمہ عروب جتوئی کی جانب سے نامور وکلا ایڈووکیٹ عثمان لطیف، ایڈووکیٹ برھان الدین، بیرسٹر امرت شیخ اور ایڈووکیٹ آفتاب ظفر نے پیش ہو کر ضمانت کے حق میں مضبوط دلائل دیے۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ یوٹیوبر عروب جتوئی کی قبل از گرفتاری ضمانت منظور کی جاتی ہے۔ عدالت نے ملزمہ کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض گرفتار نہ کرنے کا حکم جاری کیا۔

عدالت کی جانب سے ضمانت کی وجوہات: تحریری فیصلے میں عدالت نے ضمانت منظور کرنے کی درج ذیل اہم وجوہات کا ذکر کیا . عروب جتوئی کا نام ابتدائی طور پر درج کی گئی ایف آئی آر (FIR) میں شامل نہیں تھا۔ ان کا نام بعد میں مرکزی ملزم سعد الرحمٰن (ڈکی بھائی) کی فرانزک رپورٹ آنے کے بعد مقدمے کا حصہ بنایا گیا۔  سائبر کرائمز سے متعلقہ ادارے این سی سی آئی اے (NCCIA) کی جانب سے عروب جتوئی کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت یا ان کا کوئی مخصوص مجرمانہ کردار عدالت کے سامنے نہیں لایا جا سکا۔ تفتیشی ادارے این سی سی آئی اے نے اب تک عروب جتوئی کے موبائل فون کا کوئی فرانزک تجزیہ یا لیبارٹری ٹیسٹ نہیں کروایا۔تفتیشی ٹیم عدالت میں ایسی کوئی بھی ویڈیو یا ڈیجیٹل ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ عروب جتوئی نے خود جوا ایپس کی تشہیر کی ہو۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ اب تک کسی بھی عام   شہری نے عروب جتوئی کے خلاف دھوکہ دہی، فراڈ یا آن لائن جوا کھیلنے پر اکسانے کا کوئی الزام یا شکایت درج نہیں کروائی۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ اس کیس کے شریک ملزم سعد الرحمٰن (ڈکی بھائی) کو پہلے ہی لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت مل چکی ہے، جبکہ ریکارڈ کے مطابق عروب جتوئی کا کردار اس کیس میں شریک ملزم سے بھی کہیں کم نوعیت کا ہے، اس لیے وہ قانون کے مطابق ضمانت کی حقدار ہیں۔