LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکی جج کا بڑا حکم؛ گوتم اڈانی کے خلاف فوجداری مقدمہ ختم کرنے پر محکمہ انصاف سے تحریری جواز طلب ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز پر چار بار حملہ کیا، یہ اقدام پسند نہیں آیا: ٹرمپ پاکستان عالمی برادری میں امن کے داعی کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے: وزیراعظم پاکستان کا سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے، بلا رکاوٹ امداد فراہم کرنے کا مطالبہ ایران نے امریکی حملے کو جنگ بندی کی ’’لاپروا خلاف ورزی‘‘ قرار دیدیا ایران کا امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایران نے کشیدگی بڑھائی تو تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا: وینس امریکی فوج کے ایران پر فضائی حملے آبنائے ہرمز استعمال کرنے پر فیس ادا کرنی ہو گی: بلومبرگ کا دعویٰ ایران کی جانب سے بحری جہازوں پر داغے گئے ڈرونز جنگ بندی معاہدے کی احمقانہ خلاف ورزی ہے: امریکی صدر روس اور یوکرین کے درمیان 160، 160 جنگی قیدیوں کا تبادلہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی مال بردار جہاز پر فائرنگ، 11 ہزار ملاحوں کا انخلا روک دیا گیا وینزویلا میں قیامت خیز زلزلے؛ ہلاکتیں 920 ہو گئیں، ملبے تلے زندگی کی تلاش جاری، ہسپتالوں میں شدید بحران نیویارک کرائے داروں کی بڑی جیت، سٹی بورڈ نے مئیر مامدانی کی ‘کرایہ منجمد کرنے’ کی تاریخی تجویز منظور کر لی جنگ بندی کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری، مزید 7 افراد شہید

ہماری نہ وزیر اعظم ، آرمی چیف سے کوئی لڑائی ہے,مولانا فضل الرحمان

Web Desk

5 November 2025

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کو کھلواڑ نہیں بننا چاہئے، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو عوام کا آئین پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک سال میں دوسری آئینی ترمیم لانا غیر سنجیدہ عمل ہے، جب جبر کے تحت ترامیم کی جائیں گی تو عوامی اعتماد مجروح ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں چونتیس شقوں پر حکومت کو دستبردار کرایا تھا، مگر اب چھبیسویں ترمیم سے بچائے گئے نکات کو دوبارہ شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم کا مسودہ تاحال اپوزیشن کو فراہم نہیں کیا گیا، تاہم پوری اپوزیشن مل کر متفقہ رائے تشکیل دے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ معتدل سیاسی ماحول کو شدت کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ افغان حکومت سے ہے مگر سزا مہاجرین کو دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، یہ بات چیت پہلے ہی ہو سکتی تھی۔”
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ “ہماری نہ وزیر اعظم، نہ آرمی چیف، اور نہ بیوروکریسی سے کوئی لڑائی ہے،” ہم ملک میں تلخی کم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “دینی مدارس کے معاملے میں ہر حکومت ایک جیسی پالیسی کیوں اپناتی ہے؟” اور زور دیا کہ “کسی بھی حکومت میں مساجد کے اماموں کو کم معاوضہ دینا ناانصافی ہے۔”
ملاقات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے شکر گزار ہیں۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے محمود خان اچکزئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اپوزیشن متفقہ لائحہ عمل اپنائے گی۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ “مولانا فضل الرحمان نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا تھا،” اور مطالبہ کیا کہ “محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن جلد از جلد جاری کیا جائے۔