LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
فضل الرحمٰن جھکنے یا سرینڈر کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا، معافی پروپیگنڈا کرنے والے مانگیں؛ مولانا فضل الرحمٰن 19 تا 23 جولائی شدید بارشوں کا الرٹ جاری، سیلاب کا خدشہ ایران کی عبوری معاہدے سے دستبرداری کی ذرا بھی پروا نہیں: ٹرمپ افغان طالبان سے شکوہ ہے کہ آپ اپنی زمین پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے نہیں روک رہے: حافظ نعیم ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمر کیمپ 2026 میں شریک طلبہ و طالبات کے ساتھ خصوصی نشست ایرانی فوج کے کویت میں دو امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے، اسلحہ ڈپو، ریڈارز تباہ امریکا کے مسلسل آٹھویں رات ایران پر حملے، آبنائے ہرمز کے قریبی شہروں میں دھماکے فٹ بال کے عالمی میلے کا آج رات فیصلہ کن معرکہ، تاج کس کے سر سجے گا؟ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور خوشحالی مسئلہ کشمیر کے حل سے وابستہ ہے: صدر، وزیراعظم طبی تعلیم اور تحقیق میں پاک-امریکہ تعاون کا بڑا معاہدہ؛ نیویارک میں ایم او یو پر دستخط، ٹرمپ کی دعوت پر لبنانی صدر اہلیہ کے ہمراہ واشنگٹن پہنچ گئے متحدہ عرب امارات کا کشیدگی میں فوری کمی اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ سعودی اور کویتی وزرائے خارجہ کی خطے میں ایرانی حملوں کی مذمت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا اپنے شہریوں کو دنیا بھر میں محتاط رہنے کا مشورہ امریکی افواج کو ایران کے جوابی اقدامات سے بچنے کیلئے فوری نکل جانا چاہیے، ابراہیم عزیزی

ہماری نہ وزیر اعظم ، آرمی چیف سے کوئی لڑائی ہے,مولانا فضل الرحمان

Web Desk

5 November 2025

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کو کھلواڑ نہیں بننا چاہئے، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو عوام کا آئین پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک سال میں دوسری آئینی ترمیم لانا غیر سنجیدہ عمل ہے، جب جبر کے تحت ترامیم کی جائیں گی تو عوامی اعتماد مجروح ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں چونتیس شقوں پر حکومت کو دستبردار کرایا تھا، مگر اب چھبیسویں ترمیم سے بچائے گئے نکات کو دوبارہ شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم کا مسودہ تاحال اپوزیشن کو فراہم نہیں کیا گیا، تاہم پوری اپوزیشن مل کر متفقہ رائے تشکیل دے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ معتدل سیاسی ماحول کو شدت کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ افغان حکومت سے ہے مگر سزا مہاجرین کو دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، یہ بات چیت پہلے ہی ہو سکتی تھی۔”
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ “ہماری نہ وزیر اعظم، نہ آرمی چیف، اور نہ بیوروکریسی سے کوئی لڑائی ہے،” ہم ملک میں تلخی کم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “دینی مدارس کے معاملے میں ہر حکومت ایک جیسی پالیسی کیوں اپناتی ہے؟” اور زور دیا کہ “کسی بھی حکومت میں مساجد کے اماموں کو کم معاوضہ دینا ناانصافی ہے۔”
ملاقات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے شکر گزار ہیں۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے محمود خان اچکزئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اپوزیشن متفقہ لائحہ عمل اپنائے گی۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ “مولانا فضل الرحمان نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا تھا،” اور مطالبہ کیا کہ “محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن جلد از جلد جاری کیا جائے۔