LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار لیڈی ڈاکٹر کی حالت میں بہتری، حالت خطرے سے باہر ایران جنگ کے 100 دن مکمل، عالمی معیشت، تجارت اور سیاست شدید دباؤ کا شکار مہاجرین کی نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں، آزاد کشمیر سپریم کورٹ کی صدارتی ریفرنس پر رائے گلگت بلتستان میں انتخابی میدان گرم، 24 نشستوں پر پولنگ جاری کراچی میں گرمی کا پارہ چڑھنے لگا، ہیٹ ویو کا الرٹ پاکستان میں 377روپے فی لیٹر پیٹرول میں 142 روپے سے زائد ٹیکس اور مارجنز شامل اسلام آباد: امریکا کے 250 ویں یومِ آزادی کا جشن، سفارتخانے میں رنگا رنگ تقریب کا انعقاد نیویارک: اوورسیز کشمیریوں کا عوامی ایکشن کمیٹی سے یکجہتی کا اظہار آزاد کشمیر: 9 جون کی ہڑتال کی کال، انٹرنیٹ معطل، معمولات زندگی متاثر آزاد جموں و کشمیر: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 کارکن گرفتار یلو لائن منصوبے میں 6ارب روپے کی مبینہ کرپشن، سندھ حکومت نے تحقیقات شروع کر دیں پنجاب اسمبلی میں ترقی، جدید کاری کیلئے 7 ارب 41 کروڑ کے ترقیاتی پیکیج کی تجویز نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ملک بھر میں شدید ہیٹ ویو کا الرٹ؛ درجہ حرارت 46 ڈگری تک جانے کی پیشگوئی، محکمہ موسمیات تنخواہوں میں 10 تا15 فیصد اضافے کی تجویز، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے

ہماری نہ وزیر اعظم ، آرمی چیف سے کوئی لڑائی ہے,مولانا فضل الرحمان

Web Desk

5 November 2025

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی سے ملاقات کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین کو کھلواڑ نہیں بننا چاہئے، اور اگر یہی روش برقرار رہی تو عوام کا آئین پر اعتماد ختم ہو جائے گا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک سال میں دوسری آئینی ترمیم لانا غیر سنجیدہ عمل ہے، جب جبر کے تحت ترامیم کی جائیں گی تو عوامی اعتماد مجروح ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ماضی میں چونتیس شقوں پر حکومت کو دستبردار کرایا تھا، مگر اب چھبیسویں ترمیم سے بچائے گئے نکات کو دوبارہ شامل کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ستائیسویں ترمیم کا مسودہ تاحال اپوزیشن کو فراہم نہیں کیا گیا، تاہم پوری اپوزیشن مل کر متفقہ رائے تشکیل دے گی۔ مولانا فضل الرحمان نے خبردار کیا کہ معتدل سیاسی ماحول کو شدت کی طرف لے جایا جا رہا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔
افغان مہاجرین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مسئلہ افغان حکومت سے ہے مگر سزا مہاجرین کو دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “جنگ کے بعد بھی مذاکرات ہوتے ہیں، یہ بات چیت پہلے ہی ہو سکتی تھی۔”
مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ “ہماری نہ وزیر اعظم، نہ آرمی چیف، اور نہ بیوروکریسی سے کوئی لڑائی ہے،” ہم ملک میں تلخی کم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ “دینی مدارس کے معاملے میں ہر حکومت ایک جیسی پالیسی کیوں اپناتی ہے؟” اور زور دیا کہ “کسی بھی حکومت میں مساجد کے اماموں کو کم معاوضہ دینا ناانصافی ہے۔”
ملاقات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمان کے شکر گزار ہیں۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے محمود خان اچکزئی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق اپوزیشن متفقہ لائحہ عمل اپنائے گی۔
اسد قیصر نے مزید کہا کہ “مولانا فضل الرحمان نے ہمیں کھانے پر مدعو کیا تھا،” اور مطالبہ کیا کہ “محمود خان اچکزئی کا بطور اپوزیشن لیڈر نوٹیفکیشن جلد از جلد جاری کیا جائے۔