LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا، ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے رابطے جاری ہیں: قطر امریکی وزارتِ خارجہ کا دنیا بھر میں امیگرینٹ ویزا انٹرویوز کا عمل عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان ٹرمپ کا ایران پر مکمل غلبے کا دعویٰ، بڑی فتح جلد حاصل کرنے کی امید ظاہر کردی پمز سانحہ: معصوم بچوں کی شہادت پر پوری کابینہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔علامہ راجہ ناصر عباس پمز ہسپتال آتشزدگی سانحہ: این آئی سی یو میں نیبولائزر پھٹنے سے آگ لگی، ابتدائی رپورٹ اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت انسانی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے: بلاول بھٹو اسحاق ڈار کی لندن میں کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل سے ملاقات ایرانی فوج مکمل طور پر چوکس، فضائی دفاعی صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: علی رضا الہامی ایران جنگ: دبئی ایئرپورٹ پر مسافروں کی آمد میں ایک تہائی کمی نئی نسل کی کردار سازی سیرت النبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق کرنا ہوگی: وزیراعظم پمز واقعہ کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی ہو گی، خود کو احتساب کیلئے پیش کرتا ہوں: مصطفیٰ کمال پمز واقعے کے سی سی ٹی وی سمیت تمام شواہد محفوظ کر لیے گئے ہیں: طلال چوہدری ہسپتال واقعہ: حافظ نعیم نے حکومتی گڈ گورننس کے دعووں پر سوالات اٹھا دیے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نئے امیگریشن کاؤنٹرز فعال اسحاق ڈار کی لندن میں پاکستان نژاد برطانوی ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات

امریکی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان مشروط جنگ بندی پر متفق

Web Desk

4 June 2026

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید ترین جنگ اور خونریزی کے خاتمے کی جانب ایک انتہائی اہم اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکہ نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ طویل فوجی محاذ آرائی کے بعد بالآخر لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ (US Department of State) کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم مشترکہ بیان کے مطابق، لبنان اور اسرائیل کے اعلیٰ سطحی وفود نے واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران مستقل جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری خونی لڑائی کا فوری اور مستقل خاتمہ ہے۔

امریکی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تاریخی جنگ بندی چند اہم اور سخت شرائط کے ساتھ نافذ العمل ہوگی: فریقین نے اس بات پر مکمل اتفاق کیا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے لیے پہلی شرط یہ ہوگی کہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل پر ہر قسم کی فائرنگ اور حملے مکمل طور پر بند کیے جائیں گے۔ معاہدے کے تحت حزب اللہ کے تمام مسلح جنگجوؤں کا جنوبی لِیطانی (Litani) سیکٹر سے مکمل اور فوری انخلا یقینی بنایا جائے گا۔

نئے امن معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے سرحد کے قریبی علاقوں میں مخصوص ‘پائلٹ زونز’ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

ان پائلٹ زونز کے اندر سکیورٹی کا مکمل انتظام اور کنٹرول صرف اور صرف لبنانی مسلح افواج (ریاستی فوج) کے پاس ہوگا، اور وہاں کسی بھی قسم کے غیر ریاستی مسلح عنصر یا گروہ کو موجود ہونے کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔

اس نئے سکیورٹی فریم ورک کا اصل مقصد لبنان اور اسرائیل دونوں کی خودمختاری، پائیدار سلامتی اور علاقائی سالمیت کو مستقل بنیادوں پر تحفظ فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے خطے میں موجود تمام غیر ریاستی مسلح گروہوں کی تحلیل (خاتمے) اور مستقبل میں ان کی دوبارہ تنظیمِ نو کو روکنے کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔امریکہ نے اس امن عمل میں اپنے بھرپور عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لبنانی مسلح افواج کی مالی و عسکری معاونت کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور وہ پورے ملک میں ریاستی خودمختاری کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکیں۔واشنگٹن مذاکرات کے تسلسل میں یہ بات بھی طے پائی ہے کہ دونوں ممالک ایک جامع اور حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے 22 جون سے شروع ہونے والے ہفتے میں سیاسی اور سکیورٹی سے متعلق باقاعدہ مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں گے۔ امریکہ اس تمام سیاسی عمل میں دونوں ملکوں کے درمیان رابطہ کاری اور سہولت کاری (ثالثی) کا کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔