LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

کتنے فیصد پاکستانی خریداری میں اے آئی سے مدد لیتے، رپورٹ آ گئی

Web Desk

10 June 2026

کراچی: ڈیجیٹل ادائیگیوں کی عالمی معروف کمپنی ’ویزا‘ کے سالانہ ’سٹے سکیور 2026‘ مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان میں 82 فیصد صارفین اپنی آن لائن خریداری میں مدد حاصل کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر رہے ہیں۔ ویک فیلڈ ریسرچ کے تعاون سے 17 ممالک میں کیے گئے اس سروے کے مطابق، 93 فیصد پاکستانی صارفین کا ماننا ہے کہ اے آئی نے آن لائن شاپنگ کو تیز اور انتہائی آسان بنا دیا ہے، جہاں لوگ قیمتوں کے موازنہ، مصنوعات کے ریویوز اور تحائف کے انتخاب کے لیے ان ٹولز کا رخ کرتے ہیں۔ تاہم، فائنل پیمنٹ اور چیک آؤٹ کے مرحلے پر اعتماد کی کمی تاحال برقرار ہے اور صرف 42 فیصد صارفین ہی اے آئی ایجنٹس کے ذریعے ادائیگی مکمل کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سوشل کامرس کا رجحان بھی تیزی سے بڑھا ہے اور 82 فیصد صارفین سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے خریداری کر چکے ہیں، لیکن اس کے ساتھ ہی مالیاتی فراڈ کے واقعات میں بھی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران 55 فیصد صارفین کسی نہ کسی ڈیجیٹل دھوکہ دہی کا شکار ہوئے، جن میں سے 44 فیصد واقعات براہِ راست سوشل میڈیا پر پیش آئے۔ اس کے علاوہ بچوں کی آن لائن حفاظت کے حوالے سے 77 فیصد صارفین نے تشویش کا اظہار کیا کہ بچے فراڈ کی شناخت نہیں کر پاتے، جبکہ 33 فیصد نے بچوں کو آن لائن گیمنگ یا شاپنگ کے دوران متاثر ہوتے دیکھا۔ ویزا کی سینئر وائس پریزیڈنٹ اور گروپ کنٹری منیجر (شمالی افریقہ، لیونٹ اور پاکستان) لیلا سرحان کا کہنا ہے کہ اے آئی اور سوشل کامرس صارفین کے انداز کو یکسر بدل رہے ہیں، لیکن اس ڈیجیٹل ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے آن لائن تحفظ اور صارفین کے اعتماد کو بحال کرنا ناگزیر ہے۔