LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے ایرانی تنصیبات پر حملے، کویت اور بحرین میں جوابی میزائل داغ دیئے گئے ٹرمپ کی چیف آف سٹاف سوزی وائلز کا عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ ایرانی سپریم لیڈر نے 2 ہزار سے زائد قیدیوں کی سزا معاف کر دی امریکا نے کویت کو انسداد ڈرون، متعلقہ آلات کی ممکنہ فروخت کی منظوری دیدی بجٹ تاخیر اور معاشی بحران، حکومت پر دباؤ بڑھ گیا: اسد قیصر امریکی صدر ٹرمپ کی عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کی پیشگوئی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کا وقت ختم، ووٹنگ 7 جون کو ہوگی امن و سلامتی کو نقصان پہچانے کا الزام، جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کالعدم قرار حکومت کا عوام کو جزوی ریلیف، پیٹرول کی قیمت میں کمی، ڈیزل برقرار نیویارک میں سینٹر 360 کا آغاز، شہریوں کے لیے شہر کے دلکش مناظر مفت دستیاب اسلام آباد کیلئے علیحدہ اسمبلی کے قیام کی سفارش، براہ راست انتخابات اور نیا انتظامی نظام تجویز پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا پُرامن دنیا کی جانب بڑھنے کے لیے سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے: محسن نقوی وزیر اعظم نے کمرشل کورٹس کے قیام کیلئے 8 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر بڑا حادثہ؛ مسافروں کی بورڈنگ کے دوران برانڈ نیو بوئنگ طیارے کا نوز گیئر گر گیا

امریکی وزیر نیوی جان سی فیلن اچانک مستعفی، فوری طور پر عہدہ چھوڑ دیا

Web Desk

22 April 2026

واشنگٹن میں پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ امریکی وزیر بحریہ جان سی فیلن اپنے عہدے سے فوری طور پر مستعفی ہو گئے ہیں۔ ترجمان شان پرنل کے مطابق ان کے مستعفی ہونے کا اطلاق فوراً سے ہو گیا ہے تاہم اس فیصلے کی کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔

جان سی فیلن کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر دو ہزار چوبیس میں وزیر بحریہ نامزد کیا تھا۔ اس وقت ان پر یہ تنقید کی گئی تھی کہ ان کے پاس بحریہ، فوج، قومی سلامتی یا دفاعی صنعت سے متعلق براہ راست تجربہ موجود نہیں ہے۔

فروری دو ہزار پچیس میں انہوں نے سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیشی دی، جس کے بعد مارچ دو ہزار پچیس میں انہیں بائیس کے مقابلے باسٹھ ووٹوں سے عہدے کی توثیق ملی۔

اب ان کے مستعفی ہونے کے بعد انڈر سیکریٹری ہنگ کاؤ کو قائم مقام وزیر بحریہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ وزیر بحریہ امریکی بحریہ کے انتظامی، مالی اور پالیسی امور کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

اس سے قبل بھی امریکی دفاعی اداروں میں اعلیٰ سطح پر تبدیلیوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔