LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس عام انتخابات 2026: آزاد کشمیر میں جدید رزلٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری آزاد کشمیر عام انتخابات 27 جولائی کو، 45 حلقوں میں پولنگ ہوگی ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے: سردار تنویر الیاس کا شرپسندوں کے حملے کے بعد ویڈیو پیغام صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان کی سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر حملے کی سخت مذمت امریکہ نے 85 پاکستانی طلبہ و محققین کو فل برائٹ اسکالرشپس سے نواز دیا کشمیر کے مسائل حل کیلئے’ ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کیا جائے: بلاول بھٹو استنبول سے اسلام آباد آنیوالی پرواز میں خرابی، باکو میں ایمرجنسی لینڈنگ چین کے فارماسیوٹیکل تعاون سے سستی ادویات، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، وزیراعظم سونے کی قیمت میں بڑی کمی سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ جاں بحق، متعدد زخمی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے یورینیم نکالنے کیلئے فوجی آپریشن پر غور

Web Desk

30 March 2026

واشنگٹن/نیویارک: امریکی اخبارات وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات سے افزوده یورینیم نکالنے کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ اور بڑے فوجی آپریشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشن کا بنیادی مقصد اصفہان کی جوہری تنصیبات سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ وزنی یورینیم حاصل کرنا ہے تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ اصفہان کے پہاڑوں کے اندر جوہری مواد چھپایا گیا ہے، جسے ضبط کر کے تباہ کرنے کے لیے امریکی فوجی دستوں کو کئی دنوں یا اس سے بھی طویل عرصے تک ایران میں قیام کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس آپریشن کے دائرہ کار میں نہ صرف جوہری تنصیبات بلکہ جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا تحفظ بھی شامل ہو سکتا ہے تاکہ تیل کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ نے تاحال اس پر حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام خطے میں ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ ٹرمپ ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے ذریعے ثالثی اور مذاکرات کی کوششوں میں بھی کچھ پیش رفت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ تاہم، عسکری ذرائع نے متنبہ کیا ہے کہ یہ آپریشن خطرات سے بھرپور اور تزویراتی (Strategic) لحاظ سے انتہائی مشکل ہوگا۔