امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران سے یورینیم نکالنے کیلئے فوجی آپریشن پر غور
Web Desk
30 March 2026
واشنگٹن/نیویارک: امریکی اخبارات وال اسٹریٹ جرنل اور نیویارک ٹائمز نے اپنی حالیہ رپورٹس میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات سے افزوده یورینیم نکالنے کے لیے ایک انتہائی پیچیدہ اور بڑے فوجی آپریشن پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس مشن کا بنیادی مقصد اصفہان کی جوہری تنصیبات سے تقریباً ایک ہزار پاؤنڈ وزنی یورینیم حاصل کرنا ہے تاکہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ اصفہان کے پہاڑوں کے اندر جوہری مواد چھپایا گیا ہے، جسے ضبط کر کے تباہ کرنے کے لیے امریکی فوجی دستوں کو کئی دنوں یا اس سے بھی طویل عرصے تک ایران میں قیام کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس آپریشن کے دائرہ کار میں نہ صرف جوہری تنصیبات بلکہ جزیرہ خارگ اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا تحفظ بھی شامل ہو سکتا ہے تاکہ تیل کی ترسیل کو یقینی بنایا جا سکے۔
اگرچہ صدر ٹرمپ نے تاحال اس پر حتمی فیصلہ نہیں کیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام خطے میں ایک بڑی جنگ کو جنم دے سکتا ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ ٹرمپ ایرانی تیل پر کنٹرول حاصل کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے ذریعے ثالثی اور مذاکرات کی کوششوں میں بھی کچھ پیش رفت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ تاہم، عسکری ذرائع نے متنبہ کیا ہے کہ یہ آپریشن خطرات سے بھرپور اور تزویراتی (Strategic) لحاظ سے انتہائی مشکل ہوگا۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان خطے میں پائیدار امن و استحکام کا خواہاں ہے، یوسف رضا گیلانی
6 September 2026
اسحاق ڈار کا ناروے کے ہم منصب ایسپن بارتھ ایدے سے ٹیلی فونک رابطہ
6 September 2026
پاک بحریہ کی دفاعی صلاحیتوں کا سفر، آپریشن دوارکا سے معرکۂ حق تک
6 September 2026
پاسدارانِ انقلاب کا آبنائے ہرمز میں امریکی آبدوز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
6 September 2026
مزار قائد پر گارڈ تبدیلی کی پروقار تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے
6 September 2026
خلیج میں امریکی فوجی اڈے برقرار رکھنا قابلِ عمل نہیں رہا: جنرل ڈیوڈ پیٹریاس
6 September 2026
روس اور یوکرین کے درمیان فضائی حملوں میں مختصر وقفے پر اتفاق
6 September 2026
پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
6 September 2026