LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم کی پرائیویٹائزیشن کمیشن کی تنظیمِ نو 01 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف کارروائیاں بڑھانے پر اتفاق، مشترکہ اعلامیہ جاری مریم نواز سے جائیکا کے صدر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق 5 اگست 2019 ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا، حافظ نعیم اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی ثالثی میں مذاکرات کا نیا دور شروع اسحاق ڈار یروشلم سے متعلق وزارتی اجلاس میں شرکت کیلئے اردن پہنچ گئے کوئی طاقت کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت ختم نہیں کر سکتی، مشعال ملک امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنیوالے میزائلوں کا پورا ذخیرہ استعمال کر لیا 5اگست2019، کشمیری شناخت، حقِ خودارادیت اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا سیاہ باب آبنائے ہرمز نہ کھلی تو ایران کو سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا: ڈونلڈ ٹرمپ دبئی کے مشہور ہیومنائڈ روبوٹ ’بو سنیدہ‘ نے’موزہ‘ نامی روبوٹ سے شادی کر لی ایران اور امریکا 60 روزہ عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے: امریکی نشریاتی ادارے کا دعویٰ تین شہروں میں غیر ملکی صحافیوں کو آؤٹ ڈور کوریج کے لیے این او سی لازمی قرار امریکی محکمہ دادگستری کی تاریخ کی سب سے بڑی مہم, 10افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا اقدام ایرانی دھمکیوں کے باوجود آبنائے ہرمز کا جنوبی بحری راستہ بدستور کھلا ہے، سینٹ کام

ایران میں فوجی کارروائی میں مصنوعی ذہانت کے اہم کردار کا انکشاف

Web Desk

5 March 2026

امریکا اور اسرائیل کی ایران میں فوجی مہم میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پہلے 24 گھنٹوں میں ایک ہزار اہداف پر حملوں کے لیے اے آئی نظام کی مدد لی گئی جبکہ امریکی فوج نے جنگی کارروائیوں میں جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کی۔

امریکی اخبار کے مطابق جنگی استعمال کی شرائط کے حوالے سے متعلقہ کمپنی اور امریکی حکومت کے درمیان سخت مذاکرات بھی ہوئے، کیونکہ اب اے آئی ٹیکنالوجی عسکری فیصلوں میں مرکزی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران پر ممکنہ حملے سے قبل اے آئی سسٹم نے سیکڑوں اہداف کی نشاندہی کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے ہفتوں پر محیط جنگی منصوبہ بندی کو لمحوں میں تبدیل کر دیا۔ یہی ٹیکنالوجی دہشت گردی کے منصوبے ناکام بنانے میں بھی استعمال ہو رہی ہے جبکہ وینزویلا کے صدر کو پکڑنے والے ایک آپریشن میں بھی اے آئی کی مدد شامل تھی۔

امریکی اخبار کے مطابق فوج اور متعلقہ کمپنی کے درمیان خودکار ہتھیاروں اور نگرانی کے اختیارات پر اختلافات موجود ہیں، تاہم متبادل نظام آنے تک امریکی فوج موجودہ اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرتی رہے گی۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ امریکی کمانڈرز جنگی کارروائیوں میں مصنوعی ذہانت پر تیزی سے انحصار کرنے لگے ہیں اور ناٹو سمیت دنیا کی کئی فوجیں بھی اسی طرز کے اے آئی نظام اپنا رہی ہیں۔