LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل مذاکراتی ٹیم سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق چل رہی ہے: ایران ایران کے ساتھ جھوٹے وعدے کیے گئے، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف عمران خان کی بہنیں آج بھی ملاقات کیے بغیر واپس لوٹ گئیں ایران-امریکا مذاکرات: ایران کا جواب نہیں آیا، امریکی نائب صدر کا دورہ پاکستان مؤخر مذاکرات کے لیے وفد اسلام آبادبھیجنے کاابھی تک فیصلہ نہیں کیا، ایرانی وزارت خارجہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا،ایران کے معاملے میں جلدبازی سے فیصلہ نہیں کروں گا، ٹرمپ امریکاوایران جنگ میں توسیع پر غورکریں، سفارتکاری کو موقع دیں، اسحاق ڈار ایران کی جانب سے امن مذاکرات میں شرکت کےلیے تصدیق کا انتظارہے، عطاتارڑ پاک بحریہ کا فضا سے سطح سمندر پر مار کرنے والے تیمور کروز میزائل کا کامیاب تجربہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں میں تیزی کیلئے نیا نظام منظور چینی سفیر کی اسحاق ڈار سے ملاقات: امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے کردار کی تعریف، مکمل اعتماد کا اظہار آئی ایم ایف کا شکنجہ مزید سخت: 11 نئی شرائط عائد، پاکستان کی 2027 تک اصلاحات مکمل کرنے کی یقین دہانی حج فلائٹ آپریشن میں تیزی، مزید 3510 عازمین آج سعودی عرب روانہ ہوں گے

غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر غور کی پیشکش پر امریکا پاکستان کا شکرگزار ہے: مارکو روبیو

Web Desk

20 December 2025

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ پاکستان سمیت دوسرے ملکوں نے غزہ میں اپنے فوجی دستے بھیجنے سے متعلق کچھ سوال پوچھے ہیں اور اس کے بعد غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر غور کرنے کی پیشکش کی ہے جس پر امریکا پاکستان کا شکر گزار ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے امریکا کو اس بات پر اپنی رضامندی سے آگاہ کر دیا ہے کہ پاکستان غزہ میں امن و امان کے قیام کیلئے اپنے فوجی دستے بھیجے گا؟۔صحافی کے سوال پر مارکو روبیو نے کہا کہ ہم پاکستان کے بہت شکرگزار ہیں کہ اس نے غزہ امن منصوبے کا حصہ بننے یا کم از کم اس پر غور کرنے کی پیشکش کی ہے۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں پاکستان سمیت دیگر ممالک ابھی کچھ سوالوں کے جواب چاہتے ہیں جس کے بعد ہی ہم کسی ملک سے یہ کہہ سکیں گے کہ وہ غزہ امن منصوبے کیلئے اپنی خدمات پیش کرے۔امریکی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ بہت سے ملک ایسے ہیں جو اس تنازع میں شریک ہر فریق کیلئے قابل قبول ہیں اور جو آگے بڑھ کر غزہ استحکام فورس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔