LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
جموں و کشمیرنہ کبھی بھارت کا اٹوٹ انگ تھا، نہ ہے اورنہ ہوگا، پاکستان آن لائن گیمز کے منفی اثرات، برطانیہ پلٹ نوجوان نے لاہور میں بینک لوٹ لیا سعودی عرب کے شہر نجران میں حوثیوں کا داغا گیا میزائل سکول سے ٹکرا گیا آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے کے راستے پر گامزن آئل ٹینکر پر میزائل حملہ پاکستان کا غزہ میں عالمی قانون کی پاسداری یقینی بنانے، کشمیریوں کے حق خودارادیت کا اعادہ اب تحمل کی پالیسی مزید برقرار نہیں رکھی جا سکتی، شہزادہ ترکی الفیصل اسلام آباد میں کسی کو بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، سپیکر پنجاب اسمبلی سسٹم ری سیٹ ہونے والا ہے، چیزیں بہت بہتر ہو جائیں گی: محسن نقوی یورپی ممالک بھاری مقدار میں ڈیزل جاری کرنے پر تیار ہوگئے: صدر ٹرمپ کا دعویٰ دوران پرواز کپتان پر حملہ کرنے والا شریک پائلٹ انتہا پسند تھا: امریکی اخبارکا دعویٰ محسن رضائی نے ٹرمپ کے ایران کیخلاف جنگ میں فتح کے دعوؤں کو مسترد کر دیا پاسداران انقلاب کا چابہار بندرگاہ کے قریب مبینہ دہشت گرد سیل تباہ کرنے کا دعویٰ حماس کی مالی معاونت کا الزام: امریکا نے 5 افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کردیں جی سیون ممالک نے ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کیلئے اتفاق کر لیا: فرانسیسی صدر برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ، 2 پاؤنڈ فی لٹر تک پہنچ گئی

برطانیہ: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان

Web Desk

15 June 2026

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے نئی نسل کی ذہنی و جسمانی صحت اور تعلیم کو بچانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مکمل پابندی لگانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم کیر سٹارمر نے اپنے ایک اہم بیان میں اس فیصلے کو وقت کی اہم ضرورت اور بالکل درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں (بگ ٹیک فرمز) کے خلاف قانونی کارروائی اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ادارہ پہلے سے موجود ہے جو اس معاملے کی کڑی نگرانی کرے گا۔

وزیراعظم کیر سٹارمر کا کہنا تھا کہ حکومت بچوں کے سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کے اس فیصلے کو ہر صورت مؤثر بنانے کے لیے تمام لازمی اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ ہم اس قانون پر عملدرآمد کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ پابندی بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔ اس پابندی کے ساتھ ساتھ گیمنگ سروسز اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے حوالے سے بھی قوانین کو مزید سخت اور فول پروف بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کیر سٹارمر کی حکومت نے اس سلسلے میں پچھلے ماہ ایک وسیع البنیاد مشاورت کا آغاز کیا تھا تاکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اور اس سے منسلک دیگر ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو قانونی طور پر محدود کیا جا سکے۔ حکومت کا بنیادی مقصد بچوں کی توجہ موبائل فون، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ کی سکرینوں سے ہٹا کر واپس ان کی تعلیمی سرگرمیوں، کھیلوں اور جسمانی صحت کی طرف مبذول کرانا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت سوشل میڈیا کے بے ہنگم اور اندھے استعمال کے خلاف ایک شدید عوامی و سماجی ردعمل سامنے آ رہا ہے، کیونکہ اس لت سے نئی نسل کی اخلاقی، تعلیمی اور طبی حالت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو آگے چل کر معاشرتی بگاڑ اور سنگین مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔