LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران شرائط پوری کرے تو 300 ارب ڈالر کے تعمیراتی فنڈز مل سکتے ہیں: جے ڈی وینس ایران سے اچھے تعلقات کی امید، آبنائے ہرمز جمعہ تک مکمل کھول دی جائیگی: ٹرمپ امریکا اور ایران نے مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل دستخط کردیئے ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بندی معاہدے کی تقریب میں شرکت کیلئے جنیوا پہنچ گئے بلاول بھٹو زرداری کی برطانوی وزیر ہیمش فالکن سے ملاقات، خطے میں امن کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار پر گفتگو ایران نے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں، لبنان جنگ بندی بھی معاہدے کا حصہ ہے: اسماعیل بقائی سفیر پاکستان کی چیچن رہنما سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق مانیٹری پالیسی کا اعلان: اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کسی کو فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان کہنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا،مولانا فضل الرحمان صدر پوتن کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 80ویں سالگرہ پر فون کر کے مبارکباد ایران پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو ہمیشہ یاد رکھے گا: ایرانی سفیر اسحاق ڈار سے جاپانی وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا مفاہمت کا خیر مقدم کراچی: اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم اپنا گھر پروگرام کے دائرہ کار میں توسیع کر دی پنجاب کا 5131 ارب روپے کا بجٹ کل پیش ہوگا، ترقیاتی بجٹ نصف کر دیا گیا امن کا سورج طلوع، جنیوا میں ایران امریکا معاہدے کی میزبانی پاکستان کرے گا: وزیراعظم

برطانیہ: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان

Web Desk

15 June 2026

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے نئی نسل کی ذہنی و جسمانی صحت اور تعلیم کو بچانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مکمل پابندی لگانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم کیر سٹارمر نے اپنے ایک اہم بیان میں اس فیصلے کو وقت کی اہم ضرورت اور بالکل درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں (بگ ٹیک فرمز) کے خلاف قانونی کارروائی اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ادارہ پہلے سے موجود ہے جو اس معاملے کی کڑی نگرانی کرے گا۔

وزیراعظم کیر سٹارمر کا کہنا تھا کہ حکومت بچوں کے سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کے اس فیصلے کو ہر صورت مؤثر بنانے کے لیے تمام لازمی اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ ہم اس قانون پر عملدرآمد کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ پابندی بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔ اس پابندی کے ساتھ ساتھ گیمنگ سروسز اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے حوالے سے بھی قوانین کو مزید سخت اور فول پروف بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کیر سٹارمر کی حکومت نے اس سلسلے میں پچھلے ماہ ایک وسیع البنیاد مشاورت کا آغاز کیا تھا تاکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اور اس سے منسلک دیگر ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو قانونی طور پر محدود کیا جا سکے۔ حکومت کا بنیادی مقصد بچوں کی توجہ موبائل فون، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ کی سکرینوں سے ہٹا کر واپس ان کی تعلیمی سرگرمیوں، کھیلوں اور جسمانی صحت کی طرف مبذول کرانا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت سوشل میڈیا کے بے ہنگم اور اندھے استعمال کے خلاف ایک شدید عوامی و سماجی ردعمل سامنے آ رہا ہے، کیونکہ اس لت سے نئی نسل کی اخلاقی، تعلیمی اور طبی حالت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو آگے چل کر معاشرتی بگاڑ اور سنگین مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔