LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک میں ملازمین کے حقوق کی پامالی پر والگرینز سمیت 4 کمپنیوں کو 21 لاکھ ڈالر جرمانہ؛ 1600 سے زائد ورکرز کو ہرجانہ ملے گا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں، معاہدہ ترجیح ہے: ٹرمپ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام کا حق محفوظ رکھتا ہے: فیلڈ مارشل صدرمملکت کرغزستان پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر گارڈ آف آنرز پیش ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا: ٹرمپ کا ایک بار پھر دعویٰ اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل عہدے کی امیدوار سے ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال جنگ بندی کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، 6 فلسطینی شہید سندھ طاس معاہدے پر سمجھوتہ نہیں ہوگا، جنگ لڑنا پڑی تو لڑیں گے: بلاول بھٹو اسرائیلی وزیرِ دفاع کی ایرانی قیادت ختم کرنے کی دھمکی روس کا یوکرین آپریشن ایک حقیقی جنگ کی شکل اختیار کر رہا ہے: کریملن ایران میں ہفتۂ سوگ کے باعث امن مذاکرات مؤخر کیے: ٹرمپ منی پور میں کشیدگی کی نئی لہر، مودی سرکار حالات پر قابو پانے میں مکمل ناکام امریکہ ہی اسرائیل کا واحد طاقتور اتحادی نہیں، ’ایک چھوٹا سا ملک انڈیا‘ بھی ہے: نیتن یاہو ایران کا تہران کی فضائی حدود مکمل طور پر بند رکھنے کا اعلان ایران اور قطری حکام کی دوحہ میں بیٹھک، بحری تجارت بحال کرنے کا اعلان

برطانیہ: کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگانے کا اعلان

Web Desk

15 June 2026

برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے نئی نسل کی ذہنی و جسمانی صحت اور تعلیم کو بچانے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر مکمل پابندی لگانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم کیر سٹارمر نے اپنے ایک اہم بیان میں اس فیصلے کو وقت کی اہم ضرورت اور بالکل درست قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں (بگ ٹیک فرمز) کے خلاف قانونی کارروائی اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مضبوط ریگولیٹری ادارہ پہلے سے موجود ہے جو اس معاملے کی کڑی نگرانی کرے گا۔

وزیراعظم کیر سٹارمر کا کہنا تھا کہ حکومت بچوں کے سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کے اس فیصلے کو ہر صورت مؤثر بنانے کے لیے تمام لازمی اقدامات اٹھائے گی۔ انہوں نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ ہم اس قانون پر عملدرآمد کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ یہ پابندی بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوگی۔ اس پابندی کے ساتھ ساتھ گیمنگ سروسز اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز کے حوالے سے بھی قوانین کو مزید سخت اور فول پروف بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کیر سٹارمر کی حکومت نے اس سلسلے میں پچھلے ماہ ایک وسیع البنیاد مشاورت کا آغاز کیا تھا تاکہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اور اس سے منسلک دیگر ڈیجیٹل آلات کے استعمال کو قانونی طور پر محدود کیا جا سکے۔ حکومت کا بنیادی مقصد بچوں کی توجہ موبائل فون، ٹیبلٹ اور لیپ ٹاپ کی سکرینوں سے ہٹا کر واپس ان کی تعلیمی سرگرمیوں، کھیلوں اور جسمانی صحت کی طرف مبذول کرانا ہے۔ دنیا بھر میں اس وقت سوشل میڈیا کے بے ہنگم اور اندھے استعمال کے خلاف ایک شدید عوامی و سماجی ردعمل سامنے آ رہا ہے، کیونکہ اس لت سے نئی نسل کی اخلاقی، تعلیمی اور طبی حالت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جو آگے چل کر معاشرتی بگاڑ اور سنگین مسائل کا سبب بن سکتے ہیں۔