LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا

مائیکرو سافٹ آؤٹ لک، ٹیمز اور ون ڈرائیو اکاؤنٹس خطرے میں، ایف بی آر کا الرٹ

Web Desk

16 June 2026

امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے مائیکروسافٹ 365 سروسز بشمول آؤٹ لک، ٹیمز اور ون ڈرائیو استعمال کرنے والے دنیا بھر کے صارفین کو ایک انتہائی خطرناک اور تیزی سے بڑھتے ہوئے سائبر سکیورٹی خطرے سے باقاعدہ خبردار کر دیا ہے۔

ایف بی آئی کی جانب سے جاری کردہ الرٹ کے مطابق سائبر مجرموں نے ایک نئی اور انتہائی جدید فِشنگ مہم کا آغاز کیا ہے، جو روایتی سکیورٹی پروٹوکولز بشمول ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن (MFA) کو بھی آسانی سے بائی پاس کرنے کی تزویراتی صلاحیت رکھتی ہے، جس کی وجہ سے صارفین کے حساس ترین ڈیجیٹل اکاؤنٹس شدید خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیکرز اس کام کے لیے ایک نیا اور منظم ہیکنگ پلیٹ فارم “کالی 365” (Kali 365) استعمال کر رہے ہیں، جو بنیادی طور پر صارفین کے “او آتھ آتھنٹیکیشن ٹوکنز” (OAuth Authentication Tokens) کو چوری کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ان ڈیجیٹل ٹوکنز کی چوری کے بعد حملہ آوروں کو صارف کے اصل پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہتی اور وہ بغیر پاس ورڈ درج کیے براہِ راست آؤٹ لک، ٹیمز اور ون ڈرائیو جیسے اہم کلاؤڈ اکاؤنٹس میں لاگ اِن ہو جاتے ہیں۔

سائبر ماہرین کے مطابق یہ فِشنگ حملے انتہائی ہوشیاری سے ڈیزائن کی گئی ای میلز کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جو شکل و صورت اور فارمیٹ میں بالکل مائیکروسافٹ کی آفیشل ای میلز کی مانند دکھائی دیتی ہیں، تاکہ صارفین کو دھوکہ دیا جا سکے۔ ان ای میلز میں صارفین کو سکیورٹی کے نام پر ایک “ڈیوائس ویریفکیشن کوڈ” درج کرنے کا کہا جاتا ہے اور جیسے ہی کوئی صارف اس جھانسے میں آ کر کوڈ درج کرتا ہے، بیک اینڈ پر موجود ہیکرز اس کا ایکسس ٹوکن حاصل کر لیتے ہیں اور سیکنڈز کے اندر اس کے تمام دفتری و ذاتی ڈیٹا تک مکمل رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔

ایف بی آئی نے اپنی تزویراتی رپورٹ میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ نیا ہیکنگ پلیٹ فارم کم مہارت اور معمولی معلومات رکھنے والے عام ہیکرز کو بھی انتہائی جدید ترین سہولیات فراہم کرتا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے اندر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) پر مبنی فِشنگ ٹیمپلیٹس، خودکار حملے کرنے والے بوٹس اور متاثرہ افراد کے ڈیٹا کو ٹریک کرنے والے باقاعدہ لائیو ڈیش بورڈز شامل ہیں۔ سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خطرناک سروس ٹیلیگرام چینلز کے ذریعے اپریل 2026 سے فعال طور پر فروخت اور فروغ دی جا رہی ہے اور زیرِ زمین مارکیٹ میں اس سروس تک رسائی کی قیمت تقریباً 250 ڈالر ماہانہ بتائی جاتی ہے۔ اس بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل حملے کے پیشِ نظر ایف بی آئی نے تمام کارپوریٹ اور انفرادی صارفین کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی غیر معروف ای میل لنک پر کلک کرنے سے مکمل گریز کریں اور کسی بھی غیر مطلوبہ ویریفکیشن کوڈ یا مشکوک لاگ اِن درخواست کو ہرگز قبول نہ کریں۔ ادارے نے مزید مشورہ دیا ہے کہ اگر کوئی صارف یا کمپنی اس سائبر حملے کا شکار ہو چکی ہے، تو وہ فوری طور پر انٹرنیٹ کرائم کمپلینٹ سینٹر (IC3) کی آفیشل ویب سائٹ پر جا کر اس فراڈ کی رپورٹ درج کروائے تاکہ تلافی ممکن ہو سکے۔