LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا کے ساتھ معاہدے پر اتوار کو دستخط نہیں ہوں گے، ایران دھمکیوں، دباؤ اور منفی پروپیگنڈے سے نہیں ڈریں گے، مومنہ اقبال بجٹ میں نئے ٹیکس اقدامات، متعدد روزمرہ اشیاء مہنگی ہونے کا امکان صورتحال اچھی نہیں، امتحان سے گزر رہے ہیں: وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور صرف اپنے لیے کھیلنے والوں کی قومی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں، محسن نقوی کا دوٹوک مؤقف سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے وفاقی بجٹ میں ساڑھے 7 ارب روپے کے قریب رقم مختص برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس اصلاحات حکومت کی ترجیح ہیں، وزیر خزانہ وزیراعظم بتائیں عمران خان سے ملاقات کیوں نہیں ہورہی؟ خدا کے لیے فوج کے نام پر سیاست بند کریں؛بیرسٹر گوہر بھارتی ایئرفورس کا ایک اور جنگی طیارہ حادثے کا شکار معاشی وسائل صوبوں کا حق، این ایف سی میں بلوچستان کا حصہ سو فیصد بڑھا دیا: وزیراعظم سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی البینزم سے متاثرہ افراد کے لیے محبت اور احترام کا دائرہ وسیع کرنا ہوگا،مریم نواز سکیورٹی فورسز کی میران شاہ میں کارروائیاں، مزید 21 دہشت گرد ہلاک قیام امن اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فیڈرل کانسٹیبلری کا کردار اہم ہے، محسن نقوی خیبر پختونخوا ہاؤس میں ہنگامی اجلاس، صوبائی حقوق کے تحفظ کیلئے حکمتِ عملی

گھر بیٹھ کر ڈالرز کمانے کا نیا طریقہ: ایک اور آن لائن روزگار سامنے آگیا

Web Desk

13 June 2026

چنئی / بنگلورو: عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار پیش رفت جہاں روایتی ملازمتوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے، وہی اس ٹیکنالوجی نے اب عام اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے لیے گھر بیٹھے آن لائن روزگار اور ڈالرز کمانے کا ایک بالکل اچھوتا اور انوکھا طریقہ بھی متعارف کروا دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں ہزاروں غیر رسمی کارکن اپنے سروں اور چشموں پر اسمارٹ فونز اور کیمرے نصب کر کے روزمرہ کاموں کی ویڈیوز بنا رہے ہیں، جو مستقبل کے انسان نما روبوٹس (Humanoid Robots) کو انسانی انداز میں کام کرنا سکھانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ٹیکنالوجی کی دنیا میں ابھرنے والی اس نئی ڈیجیٹل مارکیٹ کی دلچسپ تفصیلات درج ذیل ہیں:’ایگو سینٹرک ڈیٹا’ (Egocentric Data) کیا ہے؟اب تک چیٹ بوٹس اور امیج جنریٹرز انٹرنیٹ پر موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا سے سیکھتے رہے ہیں، لیکن حقیقی دنیا میں کام کرنے والے روبوٹس کی تربیت کے لیے ’ایگو سینٹرک ڈیٹا‘ یعنی انسان کی آنکھ کے زاویے (First-person perspective) سے دیکھی جانے والی ویڈیوز ناگزیر ہیں۔گھریلو کاموں کی ریکارڈنگ: چنئی کی 25 سالہ ناگیریڈی سری رامیاچندرا اپنے سر پر فون باندھ کر کچن کے معمولات، جیسے کہ آم کاٹنا یا برتن ترتیب دینے کی لائیو فلم بندی کرتی ہیں۔صنعتی اور تجارتی ڈیٹا: تمل ناڈو اور کرور کے اضلاع میں فیکٹری کارکن، اور خصوصی اسٹوڈیوز کے ماڈل باتھ رومز میں تولیے تہہ کرنے جیسے کاموں کو موشن سینسرز اور ویڈیو گلاسز کے ذریعے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔فی گھنٹہ آمدنی کا ڈھانچہیہ معمولی نظر آنے والی ویڈیوز فارچیون 500 (Fortune 500) الائنسز اور بڑی عالمی ٹیک کمپنیوں کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں، جن کے عوض ان ورکرز کو درج ذیل ادائیگی کی جاتی ہے:ملک / کرنسیفی گھنٹہ ٹریننگ ڈیٹا کا معاوضہامریکی ڈالر (USD)تقریباً 2.6 ڈالربھارتی روپے (INR)250 بھارتی روپےپاکستانی روپے (PKR)تقریباً 731 پاکستانی روپے