LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
سعودی اتحادی افواج کا حوثیوں پر مدینہ منورہ کے طیبہ گرڈ سٹیشن پر ڈرون حملے کا الزام روس کا جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، کریملن دریائے سندھ کا پانی پینے کے قابل نہیں رہا: محکمہ آبپاشی نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ٹرمپ کیساتھ اچھے تعلقات، یوکرین تنازع حل کرنے کیلئے کوششوں پر شکرگزار ہیں: صدر پوتن کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز کی کارروائی، 60 لاکھ روپے کا سامان برآمد ملکی زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا اضافہ ستمبر میں مہنگائی 1.27 فیصد بڑھ گئی، سالانہ شرح 10.26 فیصد ریکارڈ فیول سبسڈی سکیم سے 75 لاکھ سے زائد شہری مستفید، وزیراعظم نے حکومتی اقدامات کو سراہ لانگ مارچ معاملہ: حکومت اور اپوزیشن کے درمیان براہ راست رابطہ نابلس میں سیکڑوں اسرائیلی قبضہ گیروں کا حضرت یوسفؑ کے مزار پر حملہ ایپسٹین سے روابط ، ناروے کے وزیراعظم سمیت 11 وزراء پارلیمنٹ میں طلب برطانیہ کے عجائب گھروں میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ مفت حکومت بزرگ شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے اقدامات کر رہی ہے: مریم نواز مصر: 1700 سال قدیم پراسرار مقبرہ دریافت حکومت نے پٹرول کی قیمت میں اضافہ، ڈیزل سستا کر دیا

گھر بیٹھ کر ڈالرز کمانے کا نیا طریقہ: ایک اور آن لائن روزگار سامنے آگیا

Web Desk

13 June 2026

چنئی / بنگلورو: عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار پیش رفت جہاں روایتی ملازمتوں کے لیے خطرہ بن رہی ہے، وہی اس ٹیکنالوجی نے اب عام اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے لیے گھر بیٹھے آن لائن روزگار اور ڈالرز کمانے کا ایک بالکل اچھوتا اور انوکھا طریقہ بھی متعارف کروا دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ’الجزیرہ‘ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں ہزاروں غیر رسمی کارکن اپنے سروں اور چشموں پر اسمارٹ فونز اور کیمرے نصب کر کے روزمرہ کاموں کی ویڈیوز بنا رہے ہیں، جو مستقبل کے انسان نما روبوٹس (Humanoid Robots) کو انسانی انداز میں کام کرنا سکھانے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ٹیکنالوجی کی دنیا میں ابھرنے والی اس نئی ڈیجیٹل مارکیٹ کی دلچسپ تفصیلات درج ذیل ہیں:’ایگو سینٹرک ڈیٹا’ (Egocentric Data) کیا ہے؟اب تک چیٹ بوٹس اور امیج جنریٹرز انٹرنیٹ پر موجود تحریری اور تصویری ڈیٹا سے سیکھتے رہے ہیں، لیکن حقیقی دنیا میں کام کرنے والے روبوٹس کی تربیت کے لیے ’ایگو سینٹرک ڈیٹا‘ یعنی انسان کی آنکھ کے زاویے (First-person perspective) سے دیکھی جانے والی ویڈیوز ناگزیر ہیں۔گھریلو کاموں کی ریکارڈنگ: چنئی کی 25 سالہ ناگیریڈی سری رامیاچندرا اپنے سر پر فون باندھ کر کچن کے معمولات، جیسے کہ آم کاٹنا یا برتن ترتیب دینے کی لائیو فلم بندی کرتی ہیں۔صنعتی اور تجارتی ڈیٹا: تمل ناڈو اور کرور کے اضلاع میں فیکٹری کارکن، اور خصوصی اسٹوڈیوز کے ماڈل باتھ رومز میں تولیے تہہ کرنے جیسے کاموں کو موشن سینسرز اور ویڈیو گلاسز کے ذریعے ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔فی گھنٹہ آمدنی کا ڈھانچہیہ معمولی نظر آنے والی ویڈیوز فارچیون 500 (Fortune 500) الائنسز اور بڑی عالمی ٹیک کمپنیوں کے لیے انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں، جن کے عوض ان ورکرز کو درج ذیل ادائیگی کی جاتی ہے:ملک / کرنسیفی گھنٹہ ٹریننگ ڈیٹا کا معاوضہامریکی ڈالر (USD)تقریباً 2.6 ڈالربھارتی روپے (INR)250 بھارتی روپےپاکستانی روپے (PKR)تقریباً 731 پاکستانی روپے