بھارت میں مسلم خواتین کے خلاف اے آئی کے غلط استعمال میں اضافہ
Web Desk
16 June 2026
بھارت میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں ڈیپ فیک (جعلی ویڈیوز)، غیر اخلاقی تصاویر اور من گھڑت آوازوں کے ذریعے خواتین کی سماجی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا اور حقوقِ انسانی کی رپورٹس کے مطابق مسلم خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کو جدید ترین اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے تبدیل کر کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل کیا جا رہا ہے، جبکہ متعدد کیسز میں ان کے چہروں کے ساتھ جعلی اے آئی وائس اوورز (من گھڑت آوازیں) بھی استعمال کی گئی ہیں تاکہ انہیں بدنام کیا جا سکے۔ اس ہولناک ڈیجیٹل حملے کا شکار ہونے والی متاثرہ خواتین، جن میں مسلم صحافی، سماجی کارکنان اور طالبات شامل ہیں، نے ان واقعات کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سائبر کرائم سیلز میں باقاعدہ شکایات درج کروا دی ہیں اور ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈیجیٹل سیکیورٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر مسلم خواتین سے متعلق تیار کیے جانے والے اس جنسی نوعیت کے توہین آمیز اے آئی مواد کو لاکھوں کی تعداد میں ویوز حاصل ہو رہے ہیں، جس کے باعث آن لائن ہراسانی اور سائبر سٹاکنگ کے رجحان میں ہولناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف تزویراتی مطالعتی رپورٹس میں مسلم خواتین کے خلاف چلائی جانے والی ان منظم آن لائن مہمات کو “سیاست کی فحش کاری” (Pornification of Politics) قرار دیا گیا ہے، جس کا مقصد اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی بااثر خواتین کی آواز کو دبانا ہے۔ ماہرینِ عمرانیات کے مطابق سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے والا یہ جعلی اے آئی مواد معاشرے میں پہلے سے موجود نفرت انگیز بیانیوں کو مزید تقویت دے رہا ہے اور گہری معاشرتی تقسیم پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
دوسری جانب، مروجہ قوانین کی کمزوریوں کے باعث قانونی اور سائبر کرائم کے مقامی اداروں کو اے آئی سے تیار کردہ اس ڈیپ فیک مواد کے پھیلاؤ کی مؤثر روک تھام اور مجرموں تک پہنچنے میں شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے۔ ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی ماہرین نے عالمی حکومتوں، سوشل میڈیا کمپنیوں اور بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اس بھیانک اور غیر اخلاقی غلط استعمال کے خلاف فوری طور پر مؤثر ترین ضابطہ اخلاق اور فلٹرنگ الگورتھم وضع کیے جائیں، تاکہ خواتین کو اس منظم آن لائن ہراسانی سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
متعلقہ عنوانات
پاکستان کی پہلی چاند گاڑی ’’جناح ون‘‘ کب چاند پر اترے گی، تاریخ کا اعلان
2 October 2026
گوگل نے نیا طاقتور اے آئی ماڈل ’جیمنائی 4 آرگون‘ متعارف کرا دیا
2 October 2026
امریکی حکومت کا نیا AI پورٹل ‘America.gov’ لانچ، جیمنائی اور گرک ماڈلز سے لیس چیٹ بوٹ متعارف
2 October 2026
دبئی میں بلاک چین لائف 2026ء، کرپٹو اور اے آئی دنیا کا بڑا اجتماع
1 October 2026
سائنسدان 3 لاکھ 15 ہزار سال قدیم انسان کا ڈیجیٹل چہرہ تشکیل دینے میں کامیاب
1 October 2026
بچوں میں سوشل میڈیا کا استعمال روکنے اور عمر کی تصدیق کا اختیار نہیں: پی ٹی اے
1 October 2026
فولڈ ایبل آئی فون کی فروخت سے متعلق اہم انکشاف!
1 October 2026
پاکستان میں G5 کی اوسط ڈاؤن لوڈ سپیڈ 127.74 ایم بی پی ایس ریکارڈ
30 September 2026