LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی حملے میں بجلی اور ڈی سیلینیشن پلانٹ کو نقصان پہنچا: کویت امریکا نے غیرملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزا قوانین سخت کر دیے، قیام کی مدت مقرر پیٹرولیم مصنوعات:حکومتی اقدام کو “لوٹ مار” اور “ڈاکہ” قرار,حافظ نعیم الرحمان اوگرا روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم قیمتوں کا تعین کرے گی: وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے پورٹ قاسم کی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا: معظم الیاس عام انتخابات 2026: آزاد کشمیر میں جدید رزلٹ مینجمنٹ سسٹم متعارف کرانے کی تیاری آزاد کشمیر عام انتخابات 27 جولائی کو، 45 حلقوں میں پولنگ ہوگی ان دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے: سردار تنویر الیاس کا شرپسندوں کے حملے کے بعد ویڈیو پیغام صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان کی سردار تنویر الیاس کے انتخابی قافلے پر حملے کی سخت مذمت امریکہ نے 85 پاکستانی طلبہ و محققین کو فل برائٹ اسکالرشپس سے نواز دیا کشمیر کے مسائل حل کیلئے’ ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن‘ کمیشن قائم کیا جائے: بلاول بھٹو استنبول سے اسلام آباد آنیوالی پرواز میں خرابی، باکو میں ایمرجنسی لینڈنگ چین کے فارماسیوٹیکل تعاون سے سستی ادویات، سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ ہوگا، وزیراعظم سونے کی قیمت میں بڑی کمی سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کے قافلے پر فائرنگ، سیکیورٹی گارڈ جاں بحق، متعدد زخمی

ایرانی حملوں کی ویڈیوز شیئر کرنا مہنگا پڑگیا، امارات میں 70 برطانوی شہری گرفتار

Web Desk

29 March 2026

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات میں حکام نے ایران کے ڈرون اور میزائل حملوں سے ہونے والے نقصانات کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کرنے کے الزام میں برطانیہ کے 70 شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار افراد میں سیاح، امارات میں مقیم برطانوی شہری اور فضائی عملے کے ارکان بھی شامل ہیں۔ بعض افراد کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے، تاہم ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے ہیں تاکہ وہ ملک سے باہر نہ جا سکیں۔

رپورٹس کے مطابق اماراتی قوانین کے تحت حساس نوعیت کی تصاویر یا ویڈیوز شیئر کرنا ہی نہیں بلکہ بعض صورتوں میں انہیں وصول کرنا بھی جرم شمار ہوتا ہے۔ ایسے جرائم پر 10 سال تک قید اور 2 لاکھ درہم تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی اور حساس معلومات کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

برطانوی ذرائع کے مطابق تنازع سے قبل بڑی تعداد میں برطانوی شہری دبئی میں مقیم تھے، تاہم کشیدگی کے بعد ان میں سے کئی واپس اپنے ملک جا چکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں ظاہر کرتی ہیں کہ خلیجی ممالک جنگی حالات میں سیکیورٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر مواد کی شیئرنگ کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کی گئی ہے۔