LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کیلئے اسحاق ڈار نیویارک روانہ ملک بھر میں ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ شروع، ایک لاکھ 38 ہزار 158 امیدوار شریک کوئٹہ میں سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کا مجسمہ دوبارہ نصب آج کراچی کینٹ ریلوے سٹیشن سے تاریخی مارچ کا آغاز ہوگا: حافظ نعیم الرحمان حوثی ملیشیا کا ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا 4 فلسطین نواز کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ، تیونس میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدہ گرین لینڈ کی خودمختاری کو متاثر نہیں کرے گا، ڈنمارک اسرائیلی فوج کی غزہ اور جنوبی لبنان میں بمباری، غزہ میں 3 افراد شہید ایران کی ستمبر میں تیل کی فروخت 2 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں شرکت واشنگٹن کا کرم نہیں ہمارا قانونی حق ہے: ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ امریکی فوج کا آبنائے ہرمز کے راستے تجارت کا حجم 6 ماہ کی بلند ترین سطح پر آنے کا دعویٰ 3 امریکی نیوز اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا محسن نقوی کا دورہ تہران صرف دو طرفہ تعلقات پر مرکوز ہوگا، ایرانی وزارت خارجہ ایران نے قطری ثالث کے ذریعے مذاکرات کی 7 شرائط امریکا تک پہنچا دیں، محسن رضائی سکیورٹی فورسز کی قلات کے قریب کارروائی، 5 دہشتگرد ہلاک، 23 مغوی بازیاب

پاکستان کے ساتھ مل کر سعودی عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے: ترک وزیر خارجہ

Web Desk

20 September 2026

ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے اعلان کیا ہے کہ یمنی حوثی ملیشیا کے مسلسل حملوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب کی کچھ عسکری ضروریات سامنے آ سکتی ہیں، جن کا جائزہ ترکیہ اور پاکستان باہمی اشتراک اور مکہ معاہدے (مکہ ڈیفنس الائنس) کے تحت لیں گے۔ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال پر اپنے اہم بیان میں ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے جنگ کے خاتمے سے متعلق تمام تجاویز متعلقہ فریقین کو ارسال کی جا چکی ہیں، جبکہ سعودی عرب پر حوثیوں کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

حقان فیدان نے واضح کیا کہ سعودی عرب کو امریکا ایران جنگ میں گھسیٹنا یا اس کا حصہ بنانا بالکل ناقابلِ قبول ہوگا۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ بحران اب معاشی طور پر خطے اور دنیا کے لیے ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے، جس کے اثرات ہر جگہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ترک وزیرِ خارجہ نے مزید بتایا کہ خطے کے ساتھ ساتھ بحیرہ اسود میں امن کے لیے ترکیہ نے یوکرین اور روس کو بھی لڑائی کے خاتمے کی باضابطہ پیشکش ارسال کر دی ہے تاکہ عالمی سطح پر جاری تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جا سکے۔