LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
شور پرود کے پہاڑی سلسلے میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن،10 دہشت گرد ہلاک آزاد کشمیر میں عوام نے انتشار اور تشدد کی سیاست کو مسترد کر دیا: مریم نواز دنیا کے کسی معاشرے نے خواتین کو محکوم رکھ کر ترقی نہیں کی: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ مخالفین کیساتھ ہمیشہ اچھا سلوک کیا، امید نہیں تھی کہ پیپلزپارٹی کی طرف سے شکایت کا موقع ملے گا: نوازشریف مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت کا اجلاس شروع، آزادکشمیر میں حکومت سازی پر غور بھارتی حکام نے میرواعظ عمر فاروق کو ایک بار پھر گھر میں نظر بند کردیا لبنانی حکومت فوج کو اسرائیلی دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے: حزب اللہ انڈونیشیا میں 7.7 شدت کا زلزلہ، سونامی کا خطرہ ٹل گیا، 20 افراد جاں بحق وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت آسمان کی طرف دیکھ رہا ہوں، بے گناہ لوگ جیلوں میں قید ہیں: شیخ رشید امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ صدر ٹرمپ نے مذاقاً آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا: وائٹ ہاؤس ناگا عوام بھی 14 اگست کو یومِ آزادی سمجھتے ہیں: ناگا خاتون آزاد کشمیر الیکشن: باغ کے دو حلقوں کے 23 پولنگ سٹیشنوں پر ری پولنگ کا آغاز سابق فوجی افسران و جوانوں کا تجربہ و رہنمائی ادارہ جاتی اثاثہ ہے: فیلڈ مارشل

ایران کے ہر حملے کا جواب 20 گنا زیادہ طاقت سے دیں گے، ٹرمپ کی نئی دھمکی

Web Desk

9 July 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران اور واشنگٹن کے مابین جاری شدید تناؤ کے تناظر میں ایران کو ایک بار پھر سخت ترین سفارتی و عسکری انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکہ یا اس کے عالمی مفادات پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا، تو ہر حملے کے جواب میں بیس گنا زیادہ طاقت اور ہلاکت خیز عسکری صلاحیت کے ساتھ کارروائی کی جائے گی۔ صدارتی طیارے ‘ایئر فورس ون’ میں سفر کے دوران صحافیوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف فوجی محاذ پر پہلے ہی بڑی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی پابندیوں اور کارروائیوں کے باعث ایران کے پاس اب معاشی اور عسکری طور پر بہت کم وسائل بچے ہیں، جس کی وجہ سے وہ امریکہ کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے کے لیے شدید بے چین ہے، تاہم انہوں نے اپنے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ ایران کسی نئے معاہدے کی پاسداری کرے گا یا نہیں۔

ایئر فورس ون میں گفتگو کے دوران جب صحافیوں نے امریکی صدر سے سوال کیا کہ اگر ایران واقعی امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو پھر اس نے آبنائے ہرمز یا خطے میں تجارتی اور کمرشل بحری جہازوں کو کیوں نشانہ بنایا؟ اس کے جواب میں صدر ٹرمپ نے روایتی سخت انداز اپنائے ہوئے کہا کہ سچ پوچھیں تو ایرانی قیادت اس وقت کچھ حد تک غیر متوازن ہو چکی ہے اور تہران کے حالات ان کے اپنے قابو سے باہر دکھائی دیتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ معاشی دباؤ کی وجہ سے معاہدہ ضرور کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی صدر نے عزم کا اظہار کیا کہ ہم نے ماضی میں بھی انہیں بہت سخت جواب دیا ہے اور اب ہماری حکمتِ عملی بالکل واضح ہے کہ اگر وہ ہم پر حملہ کریں گے تو ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔

جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا پابندیاں ختم ہونے اور کشیدگی بڑھنے کے بعد اب امریکہ دوبارہ ایران میں ایک مکمل اور طویل فوجی تنازع (جنگ) کی طرف جا رہا ہے؟ تو انہوں نے اس کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں فی الحال حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن کے پاس اس بحران سے نمٹنے اور کامیابی حاصل کرنے کے کئی متبادل راستے موجود ہیں، لیکن عسکری اور تزویراتی اعتبار سے دیکھا جائے تو امریکی افواج پہلے ہی ایران پر اپنی برتری اور کامیابی ثابت کر چکی ہیں۔