LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ: برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی 100 ڈالر سے نیچے آ گئے امریکی صدر اور ایران کے درمیان جنگ بندی، یورپی یونین کا خیرمقدم جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی شہری سڑکوں پر نکل آئے، پرچم اٹھا کر جشن تحریک انصاف کا ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس آج طلب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر غور ہوگا امریکا اور ایران جنگ بندی کا دنیا بھر میں خیر مقدم، پاکستانی کردار کی تعریف ایران امریکا جنگ بندی: پاکستان سمیت ایشیائی سٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی امریکی ڈیموکریٹس کا ٹرمپ کیخلاف آئین کی 25 ویں ترمیم کے تحت کارروائی کا مطالبہ جنگ بندی پر اظہار تشکر، وزیراعظم نے فریقین کو بات چیت کیلئے اسلام آباد مدعو کرلیا پاکستان اور روس کے درمیان عالمی سلامتی، اسلحہ کنٹرول اور ایران کی صورتحال پر تبادلہ خیال ایران کی جنگ بندی معاہدے کی توثیق، آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل نے جنگ بندی معاہدے کی توثیق کردی، مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہوں گے اسرائیل بھی عارضی جنگ بندی پر آمادہ، ایران پر بمباری روکنے کا اعلان امریکی صدر کا 2 ہفتے کیلئے ایران پر حملے روکنے اور جنگ بندی کا اعلان صدر ٹرمپ شہباز شریف کی اپیل سے آگاہ ہیں ، جلد ردعمل متوقع: وائٹ ہاؤس

صدر ٹرمپ شہباز شریف کی اپیل سے آگاہ ہیں ، جلد ردعمل متوقع: وائٹ ہاؤس

Web Desk

7 April 2026

وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل سے مکمل طور پر باخبر ہیں اور اس پر جلد ردعمل دیا جائے گا۔

ترجمان کے مطابق وزیراعظم کی جانب سے کی گئی درخواست کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ آئندہ چند روز میں اس حوالے سے واضح مؤقف سامنے آنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب سینئر ایرانی عہدیداروں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست کا جائزہ لے رہا ہے اور اس پر مشاورت جاری ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر سے ایران سے متعلق ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی اپیل کی تھی۔ اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے جاری ہیں اور جلد مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

وزیراعظم نے امریکی صدر سے درخواست کی تھی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے، جبکہ ایران سے بھی اپیل کی گئی کہ وہ جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھلا رکھے۔