LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پاکستان کو پہلے پائیدار سویرن پانڈا بانڈ کے اجرا پر 2026 اے پی اے سی کلائمیٹ بانڈز ایوارڈ سے نواز دیا گیا پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے ، طلال چودھری ایران اور امریکا مزید کشیدگی روک کر مذاکرات کی طرف واپس آئیں: چین وزیراعظم کا چھوٹے کاروبار کی معاونت کے لیے حکمت عملی بنانے کا حکم عمران خان کی ہسپتال منتقلی کا کیس: سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کر لی 27 ستمبر لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں اور گرفتار نہ کرنے کا حکم چین پاکستان میں جدید طرز کے لا انفورسمنٹ سینٹر کے قیام میں تعاون کرے گا پٹرولیم لیوی کا خاتمہ چاہیے، خیرات نہیں، حافظ نعیم الرحمان اوزون تہہ کا تحفظ نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی ضمانت ہے، مریم نواز مکہ پر ڈرون حملے کی کوشش قابل مذمت، حرمین شریفین کے تحفظ کیلئے سعودیہ کیساتھ ہیں: وزیراعظم او آئی سی کی مقدس مقامات پر حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اعلان پاکستان کا بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی پابندی میں23اکتوبر تک توسیع کا اعلان جنگ کے اثرات: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری تاجر دوست آسان ٹیکس سکیم، رجسٹریشن کیلئے ایف بی آر کو اہداف مقرر مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر

امریکا اور ایران جنگ بندی کا دنیا بھر میں خیر مقدم، پاکستانی کردار کی تعریف

Web Desk

8 April 2026

امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کو عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک نے اس پیش رفت کا بھرپور خیرمقدم کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اس موقع کو پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کے لیے استعمال کریں، جبکہ انہوں نے اس بحران کو ٹالنے میں پاکستان سمیت دیگر ثالثی ممالک کی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔ آسٹریلیا، جاپان، ملائیشیا، انڈونیشیا اور مصر سمیت متعدد ممالک نے اس اقدام کو خطے میں انسانی جانوں کے تحفظ اور استحکام کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیا ہے۔

ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم اور جاپانی ترجمان حکومت منورو کہارا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایران کی 10 نکاتی تجویز کو ایک جامع اور مستقل امن معاہدے کی شکل دی جائے، جس سے نہ صرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن میں بھی استحکام آئے۔ انڈونیشیا نے خودمختاری کے احترام کے ساتھ ساتھ امن فوجیوں کی ہلاکت پر اقوامِ متحدہ سے تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ‘اسلام آباد مذاکرات’ کے ذریعے آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی حفاظت اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کا خواب جلد شرمندہِ تعبیر ہوگا۔