ٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی
Web Desk
14 March 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطے میں ایران کے جوہری پروگرام اور جاری کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق روسی صدر نے ایران کے پاس موجود 60 فیصد افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خطے میں جاری جنگ اور تنازع کا سفارتی حل نکالا جا سکے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش رواں ہفتے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کی گئی تھی، جسے روسی صدر نے تہران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کے طور پر پیش کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس انکار کو تہران پر “میکسیمم پریشر” (انتہائی دباؤ) کی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایران کو مزید سخت شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ اس پیشکش کی مستردگی کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی
20 April 2026
جنگ کسی کے فائدے میں نہیں، کشیدگی کم کرنےکیلیےسفارتی طریقہ ضروری ہے، پزشکیان
20 April 2026
ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر
20 April 2026
مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ
20 April 2026
مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ
20 April 2026
وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم
20 April 2026
امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس
20 April 2026
اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات
20 April 2026