ٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی
Web Desk
14 March 2026
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطے میں ایران کے جوہری پروگرام اور جاری کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق روسی صدر نے ایران کے پاس موجود 60 فیصد افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خطے میں جاری جنگ اور تنازع کا سفارتی حل نکالا جا سکے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش رواں ہفتے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کی گئی تھی، جسے روسی صدر نے تہران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کے طور پر پیش کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس انکار کو تہران پر “میکسیمم پریشر” (انتہائی دباؤ) کی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایران کو مزید سخت شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ اس پیشکش کی مستردگی کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔
متعلقہ عنوانات
پاسداران انقلاب کا امریکی بحری جہازوں اور 3 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
6 September 2026
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو شہیدوں کے شہر لاڑکانہ آمد پر خوش آمدید، بلاول بھٹو
6 September 2026
6 ستمبر کا دن یاد دلاتا ہے کہ قوم متحد ہو تو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی: صدر زرداری
6 September 2026
ایران کا برکس ممالک سے ایرانی خودمختاری کی خلاف ورزی کی مذمت کا مطالبہ
6 September 2026
شادی کی تقریب پر حملے میں استعمال ہتھیار امریکی ساختہ تھے، ایرانی عدلیہ
5 September 2026
ٹرمپ کے نمائندہ وفد کی روسی صدر سے ملاقات، 3 گھنٹے سے زائد مذاکرات جاری رہے
5 September 2026
ایران کا خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کیلئے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان
5 September 2026
ایران جنگ سے متعلق معلومات لیک ہونے کی امریکی تحقیقات، ذمے دار کی شناخت نہ ہو سکی
5 September 2026