LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایرانی وفد کا امریکاسے مذاکرات کیلیے اسلام آبادآنے کاامکان، برطانوی نیوزایجنسی ایرانی رہنماعقلمندہیں توایران کا مستقبل تابناک ہوسکتاہے، امریکی صدر مذاکرات سے خطے میں امن کوفروغ ملے گا، ڈارکا ایرانی وزیرخارجہ سے رابطہ مذاکرات میں بریک تھروہواتوایرانی قیادت سے ملاقات کرنا چاہوں گا، ٹرمپ وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس، مذاکرات یقینی بنانے کاعزم امیدہے امریکا ایران مذاکراتی عمل جاری رہے گا، روس اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا مرحلہ: وزیر داخلہ محسن نقوی اور ایرانی سفیر کی ملاقات جاپان میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 7.5 ریکارڈ، سونامی کا خطرہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو فون: ناکہ بندی مذاکرات میں رکاوٹ ہے، روئٹرز کا دعویٰ پاک مصر مشق ’تھنڈر II‘ کامیابی سے مکمل، انسداد دہشتگردی تعاون مزید مضبوط پاکستان نے امن کیلئے کردار ادا کیا، امریکا ناقابلِ اعتماد، مذاکرات میں شرکت کا کوئی ارادہ نہیں: ایران چین کی بے مثال ترقی دنیا کیلئے ایک روشن مثال ہے: مریم نواز اسلام آباد مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ: وزیر داخلہ محسن نقوی کی امریکی سفیر سے ملاقات، سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ ایران کا امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ، غیر ضروری مطالبات ماننے سے انکار امریکا سے مذاکرات جاری، جنگ کیلئے بھی تیار ہیں: محمد باقر قالیباف

ٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی

Web Desk

14 March 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان ہونے والے حالیہ رابطے میں ایران کے جوہری پروگرام اور جاری کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق روسی صدر نے ایران کے پاس موجود 60 فیصد افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خطے میں جاری جنگ اور تنازع کا سفارتی حل نکالا جا سکے، تاہم صدر ٹرمپ نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ پیشکش رواں ہفتے ایک ٹیلی فونک گفتگو کے دوران کی گئی تھی، جسے روسی صدر نے تہران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے کے طور پر پیش کیا تھا۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس انکار کو تہران پر “میکسیمم پریشر” (انتہائی دباؤ) کی پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایران کو مزید سخت شرائط پر مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ سفارتی ماہرین کا خیال ہے کہ اس پیشکش کی مستردگی کے بعد خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو دھچکا لگ سکتا ہے۔