LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سانحہ پمز ہسپتال: جاں بحق ہونے والے 14 بچے سپرد خاک، ہر آنکھ اشکبار پاکستان نے فلسطین میں پائیدار امن کیلئے اسرائیلی قبضے کا خاتمہ ناگزیر قرار دیدیا برطانوی شہزادہ ہیری اور میگھن 6 سالہ بعد برطانیہ واپس پہنچ گئے بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بنانے کا الزام، میٹا 16.7 ارب ڈالر جرمانہ دینے پر رضا مند ٹرمپ انتظامیہ کا ایران کیخلاف فوری نئے حملوں کا ارادہ نہیں: امریکی میڈیا امریکا کا چین سے منسلک بڑا سائبر حملہ ناکام بنانے کا دعویٰ نیپال میں شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ، 162 سے زائد افراد ہلاک، 403 لاپتہ امریکا، اسرائیل آئی اے ای اے پر ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں: ایران دشمن کا کوئی بھی غلط اقدام فوری جوابی کارروائی کا باعث بنے گا: ایرانی فوج یوکرینی حملے: روس کا اہم انفراسٹرکچر کی سکیورٹی سخت کرنے کا فیصلہ کشیدگی میں کمی کی کوششیں: قطری وزیراعظم آج ایران کا دورہ کریں گے اقوام متحدہ کا اسرائیل سمیت تمام فریقین سے لبنان میں بلاامتیاز کارروائیاں روکنے کا مطالبہ امریکا اقتصادی دباؤ سے اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا: ایرانی صدر باقر قالیباف کا ایران پر نئی امریکی پابندیاں مسترد کرنے پر چین سے اظہارِ تشکر یوکرین جنگ ہار رہا، محاذ کی صورتحال واضح ثبوت ہے: کریملن

امریکی صدر اور انکی انتظامیہ کو ایران کی پالیسی بارے شدید تنقید کا سامنا

Web Desk

25 May 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی موجودہ انتظامیہ کو ایران سے متعلق اسٹریٹجک پالیسی اور حالیہ دعوؤں پر بیرونی محاذ کے ساتھ ساتھ اب داخلی محاذ پر بھی شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ خود صدر ٹرمپ کی اپنی سیاسی جماعت، ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے بااثر سینیٹر تھام ٹلس (Thom Tillis) نے انتظامیہ کی ایران پالیسی کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں ریپبلکن سینیٹر تھام ٹلس نے صدر ٹرمپ کی سیکیورٹی ٹیم کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ انہوں نے براہِ راست سوال اٹھایا

”امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth) اور دیگر اعلیٰ حکام نے تقریباً تین ماہ قبل یہ باقاعدہ اور بڑا دعویٰ کیوں کیا تھا کہ ہم نے ایران کی (جوہری و عسکری) صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے؟“

سینیٹر تھام ٹلس نے انتظامیہ کے تضادات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر تین ماہ قبل ایران کی صلاحیتیں ختم کر دی گئی تھیں، تو اب امریکی حکام کی جانب سے ایک بالکل مختلف راگ الاپا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہم ایک ایسی نئی صورتحال پر بات کر رہے ہیں جہاں ممکنہ طور پر ایران کے پاس جوہری مواد اب بھی محفوظ اور موجود رہے گا۔ سینیٹر ٹلس نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ ”یہ بدلتی صورتحال آخر کس طرح سے منطقی (Logical) قرار دی جا سکتی ہے؟“

انہوں نے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کو واضح پیغام دیتے ہوئے اپنی گفتگو کا اختتام اس جملے پر کیا”امریکی عوام اور کانگریس کے سامنے بہت سی باتیں ایسی ہیں جن کی اب انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی وضاحت ہونا شدید ضروری ہے۔“بین الاقوامی معاشی و تزویراتی ماہرین کے مطابق، ریپبلکن پارٹی کے اندر سے اٹھنے والی یہ اہم آواز اس بات کا ثبوت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور ایران کے معاملے پر صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو خود ان کے اپنے خیمے میں بھی مکمل تائید حاصل نہیں ہے، اور آنے والے دنوں میں امریکی وزیر دفاع کو کانگریس کے سامنے سخت جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔