LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
وفاقی وزارتِ تعلیم اور گوتھ اے آئی کے درمیان مفاہمتی یادداشت، مفت پریمیم سبسکرپشنز کا اعلان آئندہ سال بجلی چوری والے فیڈرز کے بجائے ٹرانسفارمرز پر لوڈشیڈنگ ہوگی: اویس لغاری اقوام متحدہ کے وفد کا دورہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب، نظام میں بہتری پر تبادلہ خیال پاک امریکا تعلقات پر سیمینار، مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھنے پر زور حرمین شریفین کے تحفظ پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو سکتا: ترجمان پاک فوج وفاق کے ساتھ چلیں گے، سب صوبوں کے ساتھ ایک پیج پر ہوں گے: فیصل کریم کنڈی متعدد قتل کے مجرم کو 15 سال بعد رہائی کا فائدہ نہیں ملنا چاہیے، پنجاب پروسیکیوشن کا سپریم کورٹ میں موقف آئی ایم سی اوور 40 کرکٹ ورلڈکپ: پاکستان نے بھارت کو شکست دے دی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ایس سی او اجلاس میں شرکت کیلئے تاجکستان روانہ سرکاری حج سکیم: واجبات کی دوسری قسط جمع کرانے کیلئے ایک دن باقی میر رضا جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ نہ ملی تو عدالت سے رجوع کریں گے: جبران ناصر بریسٹ کینسر کی بروقت تشخیص سے علاج کے بہتر نتائج ممکن ہیں، مریم نواز جسٹس حسن اظہر رضوی نے بطور قائم مقام چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت حلف لیا چھاتی کے سرطان سے آگاہی کا عالمی دن، خواتین بروقت طبی مشورہ لیں: صدر و وزیراعظم کی اپیل حوثیوں کے خلاف آپریشن فجرِ یمن میں 24 گھنٹوں کے دوران 1326 حملے

ناقص اور غیر معیاری سروس، ٹیلی کام کمپنیوں پر کروڑوں کے جرمانے

Web Desk

20 November 2025

رکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ 5 برس میں پی ٹی اے نے غیر معیاری سروس فراہم کرنے پر مختلف ٹیلی کام آپریٹرز پر مجموعی طور پر 6 کروڑ 89 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے، جب کہ اسی مدت میں 39 شوکاز نوٹس اور 17 وارننگ لیٹرز بھی جاری کیے گئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں موبائل فون سروس متاثر ہونے اور انٹرنیٹ کے مختلف مسائل کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں، 9 ہزار موبائل سائٹس نیٹ ورک دستیابی کے مسائل کا شکار ہیں، طویل لوڈشیڈنگ، رائٹ آف وے کے مسائل، تجارتی بجلی تک محدود رسائی، بجلی چوری اور تخریب کاری کے واقعات بھی نیٹ ورک میں خلل کا باعث بن رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سروس کا معیار خطرناک حد تک گر گیا ہے، آپریٹرز کے دعوؤں کے باوجود نیٹ ورک دستیابی اب بھی لائسنس کے معیار تک نہیں پہنچ سکی۔

اِسی طرح سال کی پہلی ششماہی میں سروس سے متعلق 8 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 99.17 فیصد حل کر دی گئی ہیں، رواں سال کے دوران کوالٹی چیک کے لیے 89 پلانڈ سروے اور 78 کمپلینٹ بیسڈ سروے مکمل کیے گئے