LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایران کیخلاف کسی بھی طاقت کا اتحاد ناکامی سے دوچار ہوگا: ترجمان ایرانی فوج شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال پر مشاورت صدر پوتن کی امریکہ میں جی 20 سربراہی اجلاس میں شرکت کا فیصلہ نہیں ہوا: کریملن پاکستان پوسٹ میں غیر قانونی بھرتیوں کا کیس، اسعد محمود تفتیش سے روپوش قرار پاکستان میں انتظامی یونٹس بنانے کے حوالے سے غور کرنا چاہئے: خواجہ آصف وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی دیوالی کے تہوار پر ہندو برادری کو مبارکباد وزیراعظم شہباز شریف کی آذربائیجان کو یوم فتح کی چھٹی سالگرہ پر مبارکباد شادی اور بچے پیدا کرنے کی ہمت کریں: پوپ لیو کی جنوبی امریکا میں نوجوانوں کو نصیحت سعودی عرب نے ریاض کی جانب داغے گئے 2 بیلسٹک اور 2 کروز میزائل تباہ کر دیے ڈی جی آئی ایس پی آر کا لاہور کی تین جامعات کا دورہ، طلبہ اور اساتذہ سے خصوصی نشستیں ٹرمپ کا سیاسی انتقام لینے اور دھمکیاں دینے پر ڈیموکریٹس کے خلاف تحقیقات کا حکم فضائی آلودگی میں لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں سرفہرست صدر اور وزیراعظم کا دیوالی پر ملک میں اتحاد، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ پر زور امریکی فوج کا بحیرۂ عمان میں تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا کل سے آغاز: بابر اعظم اور کوشال مینڈس اپنی ٹیموں کی قیادت کریں گے

ناقص اور غیر معیاری سروس، ٹیلی کام کمپنیوں پر کروڑوں کے جرمانے

Web Desk

20 November 2025

رکاری دستاویزات کے مطابق گزشتہ 5 برس میں پی ٹی اے نے غیر معیاری سروس فراہم کرنے پر مختلف ٹیلی کام آپریٹرز پر مجموعی طور پر 6 کروڑ 89 لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے، جب کہ اسی مدت میں 39 شوکاز نوٹس اور 17 وارننگ لیٹرز بھی جاری کیے گئے۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں موبائل فون سروس متاثر ہونے اور انٹرنیٹ کے مختلف مسائل کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں، 9 ہزار موبائل سائٹس نیٹ ورک دستیابی کے مسائل کا شکار ہیں، طویل لوڈشیڈنگ، رائٹ آف وے کے مسائل، تجارتی بجلی تک محدود رسائی، بجلی چوری اور تخریب کاری کے واقعات بھی نیٹ ورک میں خلل کا باعث بن رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں سروس کا معیار خطرناک حد تک گر گیا ہے، آپریٹرز کے دعوؤں کے باوجود نیٹ ورک دستیابی اب بھی لائسنس کے معیار تک نہیں پہنچ سکی۔

اِسی طرح سال کی پہلی ششماہی میں سروس سے متعلق 8 ہزار سے زائد شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 99.17 فیصد حل کر دی گئی ہیں، رواں سال کے دوران کوالٹی چیک کے لیے 89 پلانڈ سروے اور 78 کمپلینٹ بیسڈ سروے مکمل کیے گئے