LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آسیان ریجنل فورم: پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کیلئے پُرعزم ہے، اسحاق ڈار انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد کا 230 سے زائد ضمانتوں میں توسیع کا حکم، 29 اکتوبر تک پولیس کو   پی ٹی آئی رہنماؤں کی گرفتاری سے روک دیا جعلی شناختی دستاویزات کا اسکینڈل, نادرا اور پاسپورٹ افسران کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات، 42 کیسز میں اہم انکشافات وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت بہبودِ آبادی پر اہم اجلاس، 2035 تک شرحِ نمو 1.25 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر خلع کے وقت نصف حق مہر کی واپسی کا معاملہ: سپریم کورٹ میں اہم قانونی و شرعی نقطے پر سماعت، ڈاکٹر بابر اعوان اور ڈاکٹر انعام اللہ عدالتی معاون مقرر کاوا والی بال چیمپیئن شپ ,سنسنی خیز مقابلے کے بعد سری لنکا نے نیپال کو ہرا دیا وزیراعظم کا سعودی ولی عہد سے رابطہ، بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں کی مذمت سرحد پار تجارت کو ڈیجیٹلائزیشن کرنے کیلئے پہلی بار موبائل ایپ لانچ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بارشیں، 43 افراد جاں بحق، 177 زخمی، کئی گھر منہدم پاکستان سمندری اثاثوں کے دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے: دفتر خارجہ پاکستانی چاول کی مانگ میں اضافہ، میٹرک ٹن کے نئے آرڈر موصول ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی تمام پیداوار برآمد کرنا لازمی پاکستان اور چین کا ٹرانسپورٹ و بندرگاہی شعبے میں تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی صدر آصف زرداری کی مون سون میں تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت

خلع کے وقت نصف حق مہر کی واپسی کا معاملہ: سپریم کورٹ میں اہم قانونی و شرعی نقطے پر سماعت، ڈاکٹر بابر اعوان اور ڈاکٹر انعام اللہ عدالتی معاون مقرر

Web Desk

23 July 2026

سپریم کورٹ کے 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بنچ نے خلع کے وقت خاتون کی جانب سے نصف حق مہر واپس کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ بنچ کی سربراہی جسٹس جمال خان مندوخیل نے کی جبکہ بنچ میں جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس ڈاکٹر خالد مسعود سمیت دیگر ججز بھی شامل تھے۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس اہم شرعی اور قانونی نکتے کی تشریح و معاونت کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے شعبہ تحقیق کے سابق سربراہ ڈاکٹر انعام اللہ اور سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر بابر اعوان کو عدالتی معاون (Amicus Curiae) مقرر کر دیا۔

جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے استفسار کیا کہ “کیا خلع لینے پر حق مہر چھوڑنے کی کوئی قدغن لگائی جا سکتی ہے؟” انہوں نے کہا کہ شریعت کورٹ کے مطابق عورت پر نصف مہر کی واپسی کی قدغن نہیں لگ سکتی اور قرآنِ پاک کا حکم ہے کہ عورت کچھ دے کر جان چھڑوا سکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے نشاندہی کی کہ پنجاب حکومت کے قانون کے مطابق اگر عورت خلع لے تو اسے 50 فیصد مہر واپس کرنا ہوتا ہے، تاہم وفاقی شرعی عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دے چکی ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان نے موقف اختیار کیا کہ اردو میں “کچھ” کا مطلب جزو ہوتا ہے، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لفظ “کچھ” سے کیا مراد ہوگی، اس کا معیار مقرر کیا جا سکتا ہے۔ جسٹس ڈاکٹر خالد مسعود نے زور دیا کہ یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ قرآنِ پاک میں اس حوالے سے کیا تفسیر بیان کی گئی ہے۔  ڈاکٹر بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ مہر کی واپسی کے معاملے میں کئی خواتین کا استحصال ہوتا ہے۔ جس پر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیے کہ استحصال بعض اوقات دونوں اطراف سے ہوتا ہے؛ ایسے گروہ بھی سرگرم ہیں جو امیر شخص سے شادی کر کے دو ماہ بعد خلع لے لیتے ہیں۔

سماعت کے دوران جب ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ “ڈاکٹر خالد مسعود کو بنچ میں دیکھ کر اچھا لگا”، تو جسٹس جمال مندوخیل نے مسکراتے ہوئے پوچھا کہ “کیا باقی ججز کو دیکھ کر اچھا نہیں لگا؟” جس پر بابر اعوان نے جواب دیا کہ “سب کو دیکھنا اچھا لگا لیکن ڈاکٹر صاحب کو دیکھ کر خاص خوشی ہوئی”۔ اسی دوران جسٹس ملک شہزاد احمد کے “گڈ ٹو سی یو” (Good to see you) کہنے پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔ پنجاب حکومت کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکام کو علماء کرام سے رائے لے کر ہدایات دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جس کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک کے لیے ملتوی کر دی۔