آسیان ریجنل فورم: پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کیلئے پُرعزم ہے، اسحاق ڈار
Web Desk
23 July 2026
نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے 33ویں آسیان ریجنل فورم (ARF) سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان کے پلیٹ فارم سے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ’منیلا پلان آف ایکشن 2036‘ پر مؤثر عملدرآمد کی پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران عالمی و علاقائی سیاست، سلامتی اور اقتصادی مسائل پر پاکستان کے موقف کو تفصیل سے پیش کیا کہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کرے۔
انہوں نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو معطل کرنے کی کوششوں کو انتہائی تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدے سے متعلق کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات سے 25 کروڑ پاکستانیوں کے بنیادی مفادات اور پانی کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔
نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے متحرک سفارتی کردار ادا کیا ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری فراہم کی ہے۔ غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔
دہشت گردی کو عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور افغانستان میں استحکام سے ہی خطے میں تجارتی روابط کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے پاکستان کی جانب سے ’ون چائنا پالیسی‘ (One China Policy) اور جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے سفارتی حل کی مکمل حمایت دہرائی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے باہمی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری، باہمی احترام اور مکالمہ ہی ایک مشترکہ و محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں، اس لیے تمام عالمی فریقین کو صبر و تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
متعلقہ عنوانات
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ
17 August 2026
وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ
17 August 2026
بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا
17 August 2026
پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی
17 August 2026
قتل کے مقدمے میں دیت کی رقم کے تعین کا معاملہ، سپریم کورٹ نے فیصلہ محفوظ کرلیا
17 August 2026
عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع
17 August 2026
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع
17 August 2026
لیبیا کشتی حادثہ: جج کی ملزم کی ضمانت کی درخواست پر سماعت سے معذرت
17 August 2026