LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی

آسیان ریجنل فورم: پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کیلئے پُرعزم ہے، اسحاق ڈار

Web Desk

23 July 2026

نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے 33ویں آسیان ریجنل فورم (ARF) سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان کے پلیٹ فارم سے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے ’منیلا پلان آف ایکشن 2036‘ پر مؤثر عملدرآمد کی پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

نائب وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران عالمی و علاقائی سیاست، سلامتی اور اقتصادی مسائل پر پاکستان کے موقف کو تفصیل سے پیش کیا کہ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس کے پرامن حل کے لیے کردار ادا کرے۔

انہوں نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کو معطل کرنے کی کوششوں کو انتہائی تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدے سے متعلق کسی بھی قسم کے یکطرفہ اقدامات سے 25 کروڑ پاکستانیوں کے بنیادی مفادات اور پانی کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان نے خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے متحرک سفارتی کردار ادا کیا ہے اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری فراہم کی ہے۔ غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے۔

دہشت گردی کو عالمی امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے اور افغانستان میں استحکام سے ہی خطے میں تجارتی روابط کو فروغ ملے گا۔

 انہوں نے پاکستان کی جانب سے ’ون چائنا پالیسی‘ (One China Policy) اور جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے سفارتی حل کی مکمل حمایت دہرائی۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے باہمی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ریاستوں کی خودمختاری، باہمی احترام اور مکالمہ ہی ایک مشترکہ و محفوظ مستقبل کی بنیاد ہیں، اس لیے تمام عالمی فریقین کو صبر و تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔