LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت ملے گی: رانا ثناء اللہ وفاقی آئینی عدالت کا کارپوریٹ ٹیکس دہندگان کے حق میں بڑا فیصلہ بلوچستان ہائیکورٹ نے زیارت پولیس حملہ کی تحقیقات کیلئے کمیشن قائم کر دیا پاکستان اور قطرموجودہ کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں: اسماعیل بقائی عمران خان کی صحت اور جیل ملاقاتوں کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل، پولنگ ڈے کا فیصلہ 20 اگست کو متوقع پٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا دوسرے روز میں داخل پشاور ہائیکورٹ کے 4 مستقل ہونے والے ججز نے حلف اٹھا لیا سکیورٹی فورسز کا بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت خود خطے کو غیر مستحکم کرنے کیلئے پراکسی بن چکی ہے: عاصم افتخار عمرہ زائرین اور ورکرز کیلئے پاکستانی سفارت خانے کی اہم ہدایات وفاقی حکومت کے قرضوں میں 18ہزار ارب روپے سے زائد کا اضافہ آئل ٹینکرز پر حالیہ حملے، آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں شدید کمی ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کم کرنے کا اعلان آئرلینڈ میں خوفناک ٹریفک حادثہ، 5 نوجوان ہلاک، 4 افراد زخمی

جعلی شناختی دستاویزات کا اسکینڈل, نادرا اور پاسپورٹ افسران کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات، 42 کیسز میں اہم انکشافات

Web Desk

23 July 2026

جعلی دستاویزات کی تیاری اور غیر قانونی شناختی کارڈز و پاسپورٹس کے اجراء کے معاملے پر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) نے نادرا (NADRA) اور پاسپورٹ آفس کے افسران کے خلاف جاری تحقیقات کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔

اسلام آباد سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے اس وقت 42 مختلف کیسز کی تفتیش کر رہی ہے، جن میں نادرا اور پاسپورٹ آفس کے اہلکار، افسران اور ان کے سہولت کار (فرنٹ مین) بلاواسطہ طور پر ملوث پائے گئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق ان کیسز میں سب سے اہم اور سنگین انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ نادرا افسران نے ملی بھگت سے متعدد افغان شہریوں کو پاکستانی شہریوں کے فیملی ٹری (Family Tree) میں غیر قانونی طور پر شامل کیا۔ اس کے علاوہ رشوت اور جعلسازی کے ذریعے جعلی شناختی دستاویزات اور پاسپورٹس کا اجراء بھی کیا گیا۔

ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ان کیسز میں ملوث تمام اہلکاروں اور ان کے فرنٹ مینز کے خلاف کارروائی جاری ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے گی۔