LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آج پاکستان پہنچیں گے، اہم ملاقاتیں شیڈول امن جرگہ مشترکہ اعلامیے پر عملدرآمد کیا جائے، سپیکر کے پی اسمبلی کا وزیراعظم کو خط بانی پی ٹی آئی کے علاج پر لچک نہ دکھانا سمجھ سے بالاتر ہے: سلمان اکرم راجہ مکہ دفاعی اتحاد کے تحت سعودی عرب کو متفقہ فوجی دستے اور صلاحیتیں فراہم کرنے کا فیصلہ گیسولین قیمتوں میں اضافے کی وجہ آبنائے ہرمز نہیں، روس یوکرین جنگ ہے: ٹرمپ آئی سی سی نے 4 سینئر طالبان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری ‘پبلک’ کر دیئے ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں اجلاس، افغانستان کی صورتحال اور علاقائی سلامتی پر غور دشمن کی نئی غلطی کا منہ توڑ جواب دیں گے، ایرانی آرمی چیف سعودی عرب اور یمن کو باب المندب میں حوثیوں کا کنٹرول قبول نہیں: روبیو امریکا سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کر رہا ہے، امریکی حکام نائجیریا میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ، 32 افراد سوار تھے مذاکرات ناکامی کی دو بنیادی وجوہات، اپوزیشن وفد بے اختیار تھا: طارق فضل چودھری نئی جنگ کی صورت میں خطے کے امریکی اتحادی بھی متاثر ہوں گے: ایران ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ منصوبے کی کامیابی، مریم نواز کو عالمی اعزاز سے نواز دیا گیا خیبر پختونخوا کی صورتحال، ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں مختلف آپشنز پر مشاورت

سپریم کورٹ: نصف صدی بعد خاتون کو وراثتی جائیداد کیس میں ریلیف مل گیا

Web Desk

9 September 2026

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ڈیرہ اسماعیل خان کی رہائشی زیتون بی بی کو وراثتی جائیداد کے طویل مقدمے میں نصف صدی (50 سال) بعد حتمی ریلیف دیتے ہوئے 2022ء کے فیصلے پر فوری عملدرآمد کا حکم دیا ہے اور مخالف فریق کی نظرثانی درخواست کی منسوخی کے خلاف دائر کردہ درخواست مسترد کر دی ہے۔

جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے سابقہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے اور التوا کی بار بار کی استدعا پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ عدالتی نظام کی بنیادی روح نظم و ضبط اور فیصلوں کی حرمت پر قائم ہے، اور عدالتی رعایت کو محض رسمی یا ضابطے کی کارروائی سمجھنا عدالتی تقدس کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

کیس کے حقائق کے مطابق زیتون بی بی کے والد کا انتقال 1976ء میں ہوا تھا، جس کے بعد سے انہیں وراثتی حق سے محروم رکھا گیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ 2022ء کے مرکزی فیصلے کے بعد 2024ء میں دائر کردہ نظرثانی درخواست عدم پیروی پر خارج کی جا چکی تھی، اور اب سابقہ حکم واپس لینا عدالتی احکامات کی سنجیدگی کے منافی ہوگا۔ سپریم کورٹ نے انتظامی و عدالتی حکام کو 2022ء کے فیصلے پر من وعن عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔