LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
2سال میں پیٹرولیم لیوی سے 2 ہزار 725 ارب وصول، رقم آئی ایم ایف کے 2 قرض پروگراموں سے بھی زیادہ نکلی پاکستان کی پہلی شیڈو پالیسی دستاویزات جاری، نجی شعبے کی ترقی پر زور فیلڈ مارشل نے مذاکرات نتیجہ خیز بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا: امریکی ٹی وی اسلام آباد: وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب سے برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کی ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی 15 دستاویزات پر دستخط امریکا کے ساتھ فریم ورک پر پہنچ گئے، وفد ابھی پاکستان بھیجنے کا ارادہ نہیں: ایران پاکستان اور چین کا قومی مفادات پر ایک دوسرے کی مکمل حمایت کا اعلان ٹانک: چیسن کچ میں دہشت گردی، نامعلوم افراد نے مڈل اسکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز (BHU) کو دھماکے سے اڑا دیا وزیر مذہبی امور کی سعودی ہم منصب سے ملاقات، حج سے متعلق امور پر گفتگو وزیراعظم کو عوامی ہال میں چینی ہم منصب کا پرتپاک استقبالیہ، گارڈ آف آنر پیش پاکستانی نژاد برطانوی باکسر حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی

1609 کا اسپینش نایاب سونا سکہ یورپ کا سب سے مہنگا سکہ بن گیا

Web Desk

25 November 2025

سوئٹزرلینڈ: سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ نیلامی میں 1609 میں اسپین کے بادشاہ فلپ سوم کے دور کا نایاب سونے کا سکہ یورپ کی تاریخ کا سب سے مہنگا سکہ بن گیا۔

یہ منفرد سکہ 2,817,500 سوئس فرانکس (تقریباً 3.49 ملین ڈالر) میں فروخت ہوا، جبکہ ابتدائی بولی 2 ملین سوئس فرانکس رکھی گئی تھی۔ یہ سکہ جسے سنٹن (Centen) یا 100 ایسکودوز کہا جاتا تھا، اسپین کے شہر سیگوویا میں تیار ہوا اور اسے امریکہ سے آنے والے اسپینش سونے سے بنایا گیا۔

نیلامی ہاؤس کے مطابق یہ سکہ محض کرنسی نہیں بلکہ شاہی طاقت اور دولت کا مظہر تھا۔ آرگنائزر الین بیرون نے بتایا کہ یہ جدید یورپی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سکہ ہے، جس کی قیمت اُس دور میں کئی سالوں کی تنخواہ کے برابر تھی۔

یہ سکہ صدیوں تک لاپتہ رہا اور تقریباً 1950 کے لگ بھگ امریکا میں منظرِ عام پر آیا، جہاں ایک نیویارک کلیکٹر نے اسے خریدا، بعد ازاں یہ ایک اسپینش خریدار کو فروخت ہوا۔

الین بیرون کے مطابق یہ حقیقت میں شاہی تحفہ تھا، اور بادشاہ ایک دوسرے بادشاہ کو ایسا سکہ دیتا تھا۔ نیلامی کے دوران امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے خریداروں کے علاوہ کئی اداروں نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس سے قبل یورپ میں سب سے مہنگا سکہ فرڈینینڈ سوم آف ہابسبرگ کا 100 ڈوکیٹ تھا، جو 1.95 ملین سوئس فرانکس میں فروخت ہوا تھا۔