LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
خارگ پر حملہ، متحدہ عرب امارات میں امریکی ٹھکانے اب جائز اہداف ہیں: پاسداران انقلاب پاکستان اور امتِ مسلمہ کو سنجیدگی سے اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا،مولانا فضل الرحمان پٹرولیم کفایت شعاری سے حاصل رقم عوامی فلاح کیلئے استعمال ہوگی: وزیراعظم کسٹمز نے سرکاری گاڑی کو نان کسٹم پیڈ کا دعویٰ کرکے ضبط کرلیا: شرجیل میمن پاکستان سے مشرق وسطیٰ کی مزید 25 پروازیں منسوخ چئیرمین پی سی بی محسن نقوی نے سلیکشن کمیٹی کو مکمل فری ہینڈ دیدیا امریکا کا ایران کے سکول پر حملہ جنگی قوانین کی خلاف ورزی ہے: ڈائریکٹر ہیومن رائٹس واچ ورلڈکپ سے امیدیں پوری نہیں ہوئیں، کوچ اور کپتان مل کر کھلاڑی چنتے ہیں: عاقب جاوید مشرقِ وسطیٰ تنازع، تیل کی قیمت پھر سے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی خود کو اسرائیل کیخلاف ’طویل جنگ‘ کیلئے تیار کر لیا ہے، حزب اللہ رہنما نعیم قاسم امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید ایرانیوں کی تعداد 1348 ہوگئی، 17 ہزار سے زائد زخمی ٹرمپ نے ایران کی افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیوٹن کی پیشکش مسترد کر دی امریکی فوج کے ایران پر شدید حملے، خارک جزیرہ اور فوجی اہداف تباہ کردیا: صدر ٹرمپ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا کا مزید جنگی جہاز اور 5 ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان افغان طالبان کے بھیجے گئے ڈرون تباہ، ملبہ گرنے سے کوئٹہ اور راولپنڈی میں شہری زخمی، آئی ایس پی آر

1609 کا اسپینش نایاب سونا سکہ یورپ کا سب سے مہنگا سکہ بن گیا

Web Desk

25 November 2025

سوئٹزرلینڈ: سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ نیلامی میں 1609 میں اسپین کے بادشاہ فلپ سوم کے دور کا نایاب سونے کا سکہ یورپ کی تاریخ کا سب سے مہنگا سکہ بن گیا۔

یہ منفرد سکہ 2,817,500 سوئس فرانکس (تقریباً 3.49 ملین ڈالر) میں فروخت ہوا، جبکہ ابتدائی بولی 2 ملین سوئس فرانکس رکھی گئی تھی۔ یہ سکہ جسے سنٹن (Centen) یا 100 ایسکودوز کہا جاتا تھا، اسپین کے شہر سیگوویا میں تیار ہوا اور اسے امریکہ سے آنے والے اسپینش سونے سے بنایا گیا۔

نیلامی ہاؤس کے مطابق یہ سکہ محض کرنسی نہیں بلکہ شاہی طاقت اور دولت کا مظہر تھا۔ آرگنائزر الین بیرون نے بتایا کہ یہ جدید یورپی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سکہ ہے، جس کی قیمت اُس دور میں کئی سالوں کی تنخواہ کے برابر تھی۔

یہ سکہ صدیوں تک لاپتہ رہا اور تقریباً 1950 کے لگ بھگ امریکا میں منظرِ عام پر آیا، جہاں ایک نیویارک کلیکٹر نے اسے خریدا، بعد ازاں یہ ایک اسپینش خریدار کو فروخت ہوا۔

الین بیرون کے مطابق یہ حقیقت میں شاہی تحفہ تھا، اور بادشاہ ایک دوسرے بادشاہ کو ایسا سکہ دیتا تھا۔ نیلامی کے دوران امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے خریداروں کے علاوہ کئی اداروں نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس سے قبل یورپ میں سب سے مہنگا سکہ فرڈینینڈ سوم آف ہابسبرگ کا 100 ڈوکیٹ تھا، جو 1.95 ملین سوئس فرانکس میں فروخت ہوا تھا۔