LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
جو پارلیمنٹ کو مضبوط کرے اس کے ہاتھ چومنے کو تیار ہوں: محمود خان اچکزئی چند وفاقی وزراء وزیراعظم کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں: بلاول بھٹو زرداری قومی اسمبلی میں وزیر اعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دلچسپ جملوں کا تبادلہ آزاد کشمیر کی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود سے متعلق مطالبات مان لئے: رانا ثناء اللہ پی ٹی آئی نے سیاسی رواداری کے کلچر کو برباد کر دیا: خواجہ آصف مستقبل کی جنگیں نئی حکمت عملیوں کی متقاضی ہیں: نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے: ترجمان دفتر خارجہ میاں بیوی ساتھ نہ رہنے کے باوجود بھی خاتون حق مہر کی حقدار، لاہور ہائیکورٹ ہنر مند نوجوان ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں: مریم نواز نادرا کی اپیل منظور،ماتحت عدالتوں کے شناختی کارڈ بحال کرنے کے فیصلے کالعدم قرار امریکی صدر قرارداد کی منظوری پر برہم، سینیٹ نے مجھے روک کر دشمن کی مدد کی: ٹرمپ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ٹریڈنگ کا مثبت زون میں آغاز محسن نقوی کی ایرانی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں کی اسرائیل کو اعتماد میں لینے کی کوشش امریکی عوام کی اکثریت کو جنگ بندی زیادہ عرصہ برقرار نہ رہنے کا خدشہ

1609 کا اسپینش نایاب سونا سکہ یورپ کا سب سے مہنگا سکہ بن گیا

Web Desk

25 November 2025

سوئٹزرلینڈ: سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ نیلامی میں 1609 میں اسپین کے بادشاہ فلپ سوم کے دور کا نایاب سونے کا سکہ یورپ کی تاریخ کا سب سے مہنگا سکہ بن گیا۔

یہ منفرد سکہ 2,817,500 سوئس فرانکس (تقریباً 3.49 ملین ڈالر) میں فروخت ہوا، جبکہ ابتدائی بولی 2 ملین سوئس فرانکس رکھی گئی تھی۔ یہ سکہ جسے سنٹن (Centen) یا 100 ایسکودوز کہا جاتا تھا، اسپین کے شہر سیگوویا میں تیار ہوا اور اسے امریکہ سے آنے والے اسپینش سونے سے بنایا گیا۔

نیلامی ہاؤس کے مطابق یہ سکہ محض کرنسی نہیں بلکہ شاہی طاقت اور دولت کا مظہر تھا۔ آرگنائزر الین بیرون نے بتایا کہ یہ جدید یورپی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سکہ ہے، جس کی قیمت اُس دور میں کئی سالوں کی تنخواہ کے برابر تھی۔

یہ سکہ صدیوں تک لاپتہ رہا اور تقریباً 1950 کے لگ بھگ امریکا میں منظرِ عام پر آیا، جہاں ایک نیویارک کلیکٹر نے اسے خریدا، بعد ازاں یہ ایک اسپینش خریدار کو فروخت ہوا۔

الین بیرون کے مطابق یہ حقیقت میں شاہی تحفہ تھا، اور بادشاہ ایک دوسرے بادشاہ کو ایسا سکہ دیتا تھا۔ نیلامی کے دوران امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے خریداروں کے علاوہ کئی اداروں نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس سے قبل یورپ میں سب سے مہنگا سکہ فرڈینینڈ سوم آف ہابسبرگ کا 100 ڈوکیٹ تھا، جو 1.95 ملین سوئس فرانکس میں فروخت ہوا تھا۔