LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ڈی ایف سی وفد سے ملاقات: زراعت، توانائی اور معدنیات میں تعاون کا اعادہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ہم منصب سے ملاقات: اقتصادی تعاون اور امریکی سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق بھارتی نوجوانوں کی تحریک زور پکڑ گئی، ملک کے اندر اور باہر شدید احتجاج ٹرمپ انتظامیہ نے جنگ کیلئے کانگریس سے مزید 87 ارب ڈالر مانگ لئے جوہری تنصیبات پر حملہ ہوا تو خطے میں امریکی اتحادیوں کے مفادات کو نشانہ بنائیں گے، ایران فرانسیسی ایئرلائن نے مشرق وسطیٰ کی پروازیں منسوخ کر دیں سعودیہ کا ملٹی پل عمرہ ویز متعارف، قیام کی انتہائی حد 90 روز مقرر آئی ایم ایف کا یوکرین کو 690 ملین ڈالر قرض فراہم کرنے کا اعلان چین نے جاپانی کے نام نہاد تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا فلائی دبئی کی شام کے شہر حلب کیلئے روزانہ براہ راست پروازیں شروع اسرائیلی فوج کا غزہ میں مکان پر فضائی حملہ، فلسطینی میاں بیوی 4 بچوں سمیت شہید ایران جنگ میں امریکا کو جھونکنے والا اسرائیل پیچھے ہوگیا یوکرینی صدر نے فوج کے کمانڈر اِن چیف کو عہدے سے برطرف کر دیا ٹرمپ نے لبنان کیلئے براہ راست امریکی پروازیں بحال کرنے کی منظوری دے دی اربیل ایئرپورٹ میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر تمام پروازیں عارضی طور پر معطل

1609 کا اسپینش نایاب سونا سکہ یورپ کا سب سے مہنگا سکہ بن گیا

Web Desk

25 November 2025

سوئٹزرلینڈ: سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ نیلامی میں 1609 میں اسپین کے بادشاہ فلپ سوم کے دور کا نایاب سونے کا سکہ یورپ کی تاریخ کا سب سے مہنگا سکہ بن گیا۔

یہ منفرد سکہ 2,817,500 سوئس فرانکس (تقریباً 3.49 ملین ڈالر) میں فروخت ہوا، جبکہ ابتدائی بولی 2 ملین سوئس فرانکس رکھی گئی تھی۔ یہ سکہ جسے سنٹن (Centen) یا 100 ایسکودوز کہا جاتا تھا، اسپین کے شہر سیگوویا میں تیار ہوا اور اسے امریکہ سے آنے والے اسپینش سونے سے بنایا گیا۔

نیلامی ہاؤس کے مطابق یہ سکہ محض کرنسی نہیں بلکہ شاہی طاقت اور دولت کا مظہر تھا۔ آرگنائزر الین بیرون نے بتایا کہ یہ جدید یورپی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا سکہ ہے، جس کی قیمت اُس دور میں کئی سالوں کی تنخواہ کے برابر تھی۔

یہ سکہ صدیوں تک لاپتہ رہا اور تقریباً 1950 کے لگ بھگ امریکا میں منظرِ عام پر آیا، جہاں ایک نیویارک کلیکٹر نے اسے خریدا، بعد ازاں یہ ایک اسپینش خریدار کو فروخت ہوا۔

الین بیرون کے مطابق یہ حقیقت میں شاہی تحفہ تھا، اور بادشاہ ایک دوسرے بادشاہ کو ایسا سکہ دیتا تھا۔ نیلامی کے دوران امریکا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے خریداروں کے علاوہ کئی اداروں نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس سے قبل یورپ میں سب سے مہنگا سکہ فرڈینینڈ سوم آف ہابسبرگ کا 100 ڈوکیٹ تھا، جو 1.95 ملین سوئس فرانکس میں فروخت ہوا تھا۔