امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا
Web Desk
25 May 2026
امریکی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بیک ڈور ڈپلومیسی اور پیشرفت تیزی سے جاری ہے، تاہم اس اہم ترین اسٹریٹجک معاہدے کو حتمی شکل دینے اور باقاعدہ اعلان میں ابھی مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت انہی مذاکرات کے حتمی نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل سی این این (CNN) نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے اس ممکنہ معاہدے کے اہم ترین مندرجات اور چیلنجز کی تفصیلات جاری کی ہیں:خطے میں فوری جنگ بندی، عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے بحری جہازوں کی محفوظ ترسیل کی بحالی اور ایران کا متنازع جوہری پروگرام ان مذاکرات کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں۔ یہ مفاہمتی یادداشت تہران کو اس کے جوہری پروگرام کو محدود اور ریگولیٹ کرنے سے متعلق ایک نیا اور جامع قانونی فریم ورک فراہم کرے گی۔ حتمی دستخطوں سے قبل دونوں ممالک کے سفارت کاروں اور قانونی ماہرین کے مابین دستاویز میں شامل مخصوص الفاظ، باریک نکات اور سخت شرائط پر تاحال گہرائی سے تبادلہ خیال جاری ہے۔ معاہدے کا حتمی دارومدار اس بات پر ہے کہ ایرانی حکام درکار دستاویزات کو کتنی جلدی تیار اور فائنل کرتے ہیں۔
دوسری جانب، ایک اور بڑے امریکی معتبر نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز (CBS News) نے انکشاف کیا ہے کہ اس انتہائی اہم معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں حائل حالیہ تاخیر کی اصل وجہ تہران میں مواصلاتی اور سیکیورٹی کے پیچیدہ مسائل ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر اس وقت انتہائی سخت سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت ایک خفیہ مقام پر موجود ہیں، جہاں ان تک براہِ راست رسائی یا محفوظ مواصلاتی رابطہ قائم کرنا ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔ ایرانی قیادت اور بااثر حلقوں کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای تک حساس سفارتی پیغامات اور معاہدے کی دستاویزات پہنچانے اور وہاں سے حتمی منظوری واپس لانے کے اسی پیچیدہ عمل میں ضرورت سے زیادہ وقت لگ رہا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن میں حتمی دستخطوں کا عمل سست روی کا شکار ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام تر مواصلاتی اور تکنیکی رکاوٹوں کے باوجود دونوں اطراف سے لچک کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، اور اگر اگلے چند روز میں الفاظ کی جنگ ختم ہو گئی تو یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی امن اور عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام کا باعث بنے گا۔
متعلقہ عنوانات
انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں
14 July 2026
امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر
14 July 2026
ایران، امریکا کے درمیان جنگ بندی ختم ، مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے: میڈیا رپورٹ
14 July 2026
امریکی فوج کے ایران پر تیسرے روز بھی فضائی حملے، کئی شہروں میں دھماکے
14 July 2026
خواجہ محمد آصف نے فضل الرحمان کے بیان کو اخلاقی بے حسی قرار دیدیا
14 July 2026
امریکی بحری جہاز کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا: ایران
14 July 2026
امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی تصدیق کر دی
14 July 2026
محمود احمدی نژاد اسرائیل کے رجیم چینج کے منصوبے کا حصہ تھے: امریکی اخبار کا دعویٰ
14 July 2026