LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، انڈیکس ایک لاکھ 71 ہزار پوائنٹس کی حد پر بحال عوامی ٹرانسپورٹ میں اوورچارجنگ، اوورلوڈنگ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا سوات ایکسپریس وے پر وین کی بس کو ٹکر، 11 افراد جاں بحق، 7 زخمی امریکہ ایران معاہدے پر غیر یقینی صورتحال، عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ایرانی و عمانی سفارتکاروں کا رابطہ، سفارتی رابطوں کی اہمیت کا اعادہ امریکی صدر اور انکی انتظامیہ کو ایران کی پالیسی بارے شدید تنقید کا سامنا بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے محسن نقوی سے ملاقات خاندان کو اعتماد میں لیے بغیر کی:علیمہ خان  شکیرا کے فیفا ورلڈ کپ 2026 گانے کی ویڈیو جاری، میسی اور امباپے سمیت عالمی ستارے شامل پاکستان اور چینی کمپنیوں کے درمیان 7 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں پر دستخط ایران کی کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ تعاون پر زور 8ذوالحج: مناسک حج کا آغاز، 20 لاکھ سے زائد عازمین منیٰ پہنچنے لگے بلوچستان حملہ پوری قوم کے دل پر وار ہے: نواز شریف واٹس ایپ میں نیا فیچر متعارف کرانے کی تیاری، فون نمبر کے بغیر یوزر نیم سے چیٹ ممکن ہوگی امریکی صدر ٹرمپ کا ایران امریکا جنگ کو ’الوداع‘ کا اشارہ، اے آئی تصویر اور پوسٹ نے نئی بحث چھیڑ دی

امریکا،ایران معاہدے کو حتمی شکل دینے میں چند دن لگ سکتے ہیں: امریکی میڈیا

Web Desk

25 May 2026

امریکی نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر بیک ڈور ڈپلومیسی اور پیشرفت تیزی سے جاری ہے، تاہم اس اہم ترین اسٹریٹجک معاہدے کو حتمی شکل دینے اور باقاعدہ اعلان میں ابھی مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں کی نظریں اس وقت انہی مذاکرات کے حتمی نتائج پر لگی ہوئی ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این (CNN) نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے اس ممکنہ معاہدے کے اہم ترین مندرجات اور چیلنجز کی تفصیلات جاری کی ہیں:خطے میں فوری جنگ بندی، عالمی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے ذریعے بحری جہازوں کی محفوظ ترسیل کی بحالی اور ایران کا متنازع جوہری پروگرام ان مذاکرات کا بنیادی اور مرکزی حصہ ہیں۔ یہ مفاہمتی یادداشت تہران کو اس کے جوہری پروگرام کو محدود اور ریگولیٹ کرنے سے متعلق ایک نیا اور جامع قانونی فریم ورک فراہم کرے گی۔ حتمی دستخطوں سے قبل دونوں ممالک کے سفارت کاروں اور قانونی ماہرین کے مابین دستاویز میں شامل مخصوص الفاظ، باریک نکات اور سخت شرائط پر تاحال گہرائی سے تبادلہ خیال جاری ہے۔ معاہدے کا حتمی دارومدار اس بات پر ہے کہ ایرانی حکام درکار دستاویزات کو کتنی جلدی تیار اور فائنل کرتے ہیں۔

دوسری جانب، ایک اور بڑے امریکی معتبر نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز (CBS News) نے انکشاف کیا ہے کہ اس انتہائی اہم معاہدے کو عملی جامہ پہنانے میں حائل حالیہ تاخیر کی اصل وجہ تہران میں مواصلاتی اور سیکیورٹی کے پیچیدہ مسائل ہیں۔ایران کے سپریم لیڈر اس وقت انتہائی سخت سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت ایک خفیہ مقام پر موجود ہیں، جہاں ان تک براہِ راست رسائی یا محفوظ مواصلاتی رابطہ قائم کرنا ایک مشکل ترین عمل بن چکا ہے۔ ایرانی قیادت اور بااثر حلقوں کی جانب سے مجتبیٰ خامنہ ای تک حساس سفارتی پیغامات اور معاہدے کی دستاویزات پہنچانے اور وہاں سے حتمی منظوری واپس لانے کے اسی پیچیدہ عمل میں ضرورت سے زیادہ وقت لگ رہا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن میں حتمی دستخطوں کا عمل سست روی کا شکار ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام تر مواصلاتی اور تکنیکی رکاوٹوں کے باوجود دونوں اطراف سے لچک کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، اور اگر اگلے چند روز میں الفاظ کی جنگ ختم ہو گئی تو یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی امن اور عالمی تیل کی قیمتوں میں استحکام کا باعث بنے گا۔