LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستانی قوم نے 90 ہزار جانوں کی قربانیاں دیں، عطا تارڑ پیٹرول مزید مہنگا ہونے پر جماعت اسلامی کی کل ملک گیر ہڑتال کی دھمکی پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کیلئے حلقہ بندیاں مکمل، ریکارڈ الیکشن کمیشن کو ارسال سپریم کورٹ کا عمران خان کو شفا ہسپتال منتقل کرنے کا حکم وزیراعظم کی عازمینِ حج کو بہترین سہولیات کی فراہمی، مؤثر انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت ڈی جی آئی ایس پی آر کی سمر انٹرن شپ 2026 کے شرکا سے خصوصی نشست جڑواں شہروں میں شدید بارش، رین ایمرجنسی نافذ، نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند مون سون شجرکاری کا آغاز، درختوں کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: صدر مملکت پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی پارٹی کا بل بورڈ: نیویارک کے میئر زہران ممدانی کی تصویر ایران اور حزب اللہ رہنماؤں کے ساتھ لگا دی نیویارک سٹی ہال میں یومِ آزادی پاکستان کی پر وقار تقریب: پاکستانی برادری کی خدمات کا اعتراف ہیمپسٹڈ ٹاؤن شپ میں پاکستانی یومِ آزادی کی رنگا رنگ تقریب، کمیونٹی کی بھرپور شرکت امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران کے 100 طیارے تباہ ہوئے: فرزانے صادق عمان کیساتھ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے نقشے سے متعلق مفاہمت طے پا گئی: ایران ایران کیساتھ جنگ: امریکی صدر کی مقبولیت کم ترین سطح پر پہنچ گئی

لیگی قیادت کی تنقید پر شیری رحمان کا سخت ردعمل، انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرا دیے

Web Desk

28 July 2026

پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کی جانب سے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پر کی جانے والی تنقید پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے انتخابی دھاندلی کے الزامات کا اعادہ کیا ہے۔ اپنے ایک سخت بیان میں انہوں نے کہا کہ مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے ذریعے حاصل کی گئی کامیابی کو عوامی مینڈیٹ کا نام دینا انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی صرف ان کی جماعت نہیں بلکہ میڈیا بھی کر رہا ہے، اور صورتِ حال یہ تھی کہ پریذائیڈنگ افسر ابھی نتائج لے کر ریٹرننگ افسر تک پہنچا بھی نہیں تھا کہ (ن) لیگی امیدوار کی فتح کا اعلان کر دیا گیا۔

شیری رحمان نے (ن) لیگ کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو پر بے بنیاد تنقید کرنے والوں کو پہلے اپنی سیاسی قیادت کے طرزِ عمل کا جائزہ لینا چاہیے۔ میاں نواز شریف متعدد بار اقتدار میں رہنے کے باوجود سیاسی برداشت اور اعلیٰ جمہوریت کا مظاہرہ نہ کر سکے اور آج نفرت کی سیاست کے ذریعے کشمیر کے غیور عوام کو تقسیم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے پی پی پی کے شہید کارکن مختار یونس کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ پولنگ اسٹیشن پر عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے ڈٹے ہوئے تھے؛ اگر مبینہ دھاندلی، اسلحے کی نمائش اور فائرنگ کے ذریعے خوف کی فضا قائم نہ کی جاتی تو وہ آج ہمارے درمیان زندہ ہوتے۔

نائب صدر پیپلز پارٹی نے مطالبات اور عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس پورے انتخابی عمل کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ قوم کے سامنے تمام حقائق آ سکیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بلاول بھٹو پر تنقید کر کے عوام کے ووٹ پر مارے گئے شب خون کو چھپایا نہیں جا سکتا، کیونکہ جمہوریت کی اصل روح صرف اور صرف عوامی مینڈیٹ کے احترام میں مضمر ہے۔ اپنے بیان کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر پیپلز پارٹی کا تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا؛ میرپور کی نشستیں واپس حاصل کی جائیں گی اور مظفرآباد میں بھی عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے ساتھ فتح سمیٹی جائے گی۔