LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ پر اہم اجلاس، اقدامات تیز کرنے کی وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ایرانی سفیر کی ملاقات: علاقائی امن اور دوطرفہ تعاون پر اہم گفتگو برطانیہ کی امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت، اسحاق ڈار اور برطانوی ہائی کمشنر کی ملاقات حکومت اور آئی ایم ایف میں نئی آٹو پالیسی پر اتفاق، ڈیوٹیز میں کمی کا فیصلہ پہلگام واقعہ کے ایک سال بعد بھی بھارت شواہد پیش نہ کر سکا: عطاء اللہ تارڑ ایران جنگ کی مخالفت: ایرانی نژاد امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری کو دھمکیاں زمین کے قدرتی وسائل انسانی زندگی کی بقا کیلئے ناگزیر ہیں: وزیراعظم جنگ کیلئے تیار، جنگ بندی کے دوران صلاحیتیں مزید بہتر بنا رہے ہیں: سینٹ کام ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس اقوام متحدہ کا جنگ بندی میں توسیع کا خیر مقدم، پاکستانی کوششوں کی مکمل حمایت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان منسوخ، وائٹ ہاؤس نے تصدیق کردی ایران نے مذاکرات کے حوالے سے امریکہ کی  شرائط مسترد کردیں: ایرانی سرکاری میڈیا جنگ بندی میں توسیع پر صدر ٹرمپ کا شکریہ، پاکستان کا سفارتی عمل جاری رکھنے کا اعلان صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کردیا آبنائے ہرمز میں پھنسے ہزاروں ملاحوں کے لیے اقوام متحدہ کی مدد کی اپیل

ایران سے حقائق پر بات کرنے کے بجائے اسے ٹرخایا گیا، دھمکیاں بھی دی گئیں: روس

Web Desk

22 April 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ سفارتی عمل پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کو ماضی میں بھی “جھوٹے وعدوں” اور دھمکیوں کے ذریعے ٹرخایا گیا ہے۔ روسی وزیر خارجہ کے مطابق، موجودہ مذاکراتی عمل میں بیانات اور دلاسے تو نظر آ رہے ہیں لیکن ٹھوس حقائق اور عملدرآمد کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے ایران کا محتاط موقف بالکل درست ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے اور پاکستان میں ہونے والی ان ممکنہ بات چیت کی پیشرفت 24 گھنٹوں کے اندر 10 بار بدل سکتی ہے۔

سرگئی لاوروف نے واضح کیا کہ اگر دونوں ممالک 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) کی طرز پر کسی نئے اور ٹھوس معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو یہ عالمی امن کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ تاہم، انہوں نے موجودہ حالات میں امریکی وعدوں پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے تحفظات کی تائید کی ہے۔