LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک سٹی میں پرائمری اور مڈل اسکول کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ سیکورٹی خدشات کے باعث ضلع ٹانک میں کرفیو نافذ امریکی ریاست منی سوٹا میں فائرنگ، 2 افراد ہلاک، حملہ آور بھی ہلاک برنی سینڈرز کی ٹرمپ پر کڑی تنقید، ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ سعودی عرب کی آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکر پر ایرانی حملے کی مذمت شادی کی تقریب میں حملہ: ایرانی ہلال احمر سوسائٹی کا تحقیقات کیلئے عالمی عدالت سے رجوع روس خفیہ طور پر ایران کو جدید سپر سونک کروز میزائل تیار کرنے میں مدد دے رہا: برطانوی میڈیا جرمنی میں ڈرون حملے کی کوشش، یورپی یونین کا روس پر دباؤ بڑھانے کا اعلان ایران نے شادی کی تقریب پر حملے کو واشنگٹن کی اخلاقی گراوٹ کی ایک اور مثال قرار دیدیا امریکی حملوں میں 19 افراد شہید، 108 زخمی ہوئے: ایرانی وزیر صحت کی تصدیق ایران اسرائیل کیساتھ دوبارہ جنگ سے پہلے امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا: عالمی تجزیہ کار صومالی تنظیم الشباب اور یمنی حوثیوں کے درمیان فوجی تعاون بڑھانے کی اطلاعات میری ٹائم اتحاد میں شمولیت کیلئے ضروری مراحل مکمل کر لیے گئے، سعودی وزارت دفاع جنگ بندی کے باوجود رواں سال غزہ میں اسرائیلی حملوں سے 900 سے زائد فلسطینی شہید: وزارتِ صحت جغرافیائی، سیاسی کشیدگی: 86 ٹن سونا امریکا اور کینیڈا سے برطانیہ منتقل

فلم ‘بلھیا’ پر تنازع: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات کا فلم کا نام اور متنازع ڈائیلاگ تبدیل کرنے کا حکم، نمائش پر پابندی کی ہدایت

Web Desk

23 July 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں متنازع فلم ‘بلھیا’ کی منظوری اور اس کے Content  پر سنسر بورڈ حکام کی بریفنگ کے بعد کمیٹی نے فلم کا نام اور متنازع ڈائیلاگز فوری ختم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اجلاس کے دوران سنسر بورڈ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فلم ‘بلھیا’ کو وفاق، پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز نے منظور کیا ہے۔ اگر کمیٹی سمجھتی ہے کہ فلم پر پابندی ہونی چاہیے تو وہ سنسر بورڈ کو باضابطہ ہدایات دے سکتی ہے۔ بورڈ حکام نے مزید کہا کہ فلم کے رائٹر ناصر ادیب انتہائی سینئر اور پرانے لکھاری ہیں۔

سماعت کے دوران سینیٹر پرویز رشید اور سنسر بورڈ اراکین کے درمیان سخت مکالمہ ہوا۔ سینیٹر پرویز رشید نے ریمارکس دیے کہ “ناصر ادیب کی ‘مولا جٹ’ کے علاوہ کوئی خاص شہرت نہیں ہے، مولا جٹ آنے سے پہلے مجھے گنڈاسے کا بھی علم نہیں تھا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس عظیم صوفی شخصیت پر فلم بنائی جا رہی ہے، رائٹر خود بھی ان کی خوبیوں سے لاعلم نظر آتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ سنسر بورڈ کے تینوں اراکین بھی حضرت بابا بلھے شاہؒ کی فکر سے ناواقف ہیں۔ انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ بابا بلھے شاہ کے نام پر فلم میں خون بہایا گیا ہے۔

اس پر سنسر بورڈ کے ممبر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فلم قدیم کے بجائے “نئے دور کے بلھے” سے متعلق ہے جو الگ طریقے سے مسائل حل کرنا چاہتا ہے، اور بورڈ کو اس کے ڈائیلاگز اس وقت غیر مناسب نہیں لگے تھے۔ جس پر پرویز رشید نے استفسار کیا کہ “اگر کوئی فلم غنی خان يا خوشحال خان خٹک کی شخصیات کے منافی بنائی جائے تو کیا آپ اسے پاس کر دیں گے؟” جس پر ممبر نے جواب دیا کہ وہ ایسی فلم کو ہرگز پاس نہ کرتے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ سنسر بورڈ میں ممبران کی نامزدگی کے لیے ایک واضح اور معیار پر مبنی طریقہ کار ہونا چاہیے اور بورڈ کو ہمیشہ یہ سوچنا چاہیے کہ کسی بھی ڈرامے یا فلم کا معاشرے پر کیا اثر پڑے گا۔

کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر سینیٹر پرویز رشید کی تجویز پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے احکامات جاری کیے کہ فلم کا نام ‘بلھیا’ تبدیل کیا جائے۔ فلم میں شامل تمام غیر مناسب ڈائیلاگ ختم کیے جائیں۔ جب تک یہ تبدیلیاں نہیں کی جاتیں، فلم کی نمائش پر پابندی عائد رکھی جائے۔