LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
ایل پی جی کے 2 جہاز پاکستان پہنچ گئے، قیمتوں میں کمی کا امکان پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا تھیم پارک اسلام آباد میں بنے گا ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستانی ڈیری سیکٹر میں اہم پیشرفت کراچی: بچوں کی اینیمیٹڈ پورنوگرافی کے ملزمان سے تفتیش میں اہم انکشافات ملک میں جیٹ فیول، لائٹ ڈیزل آئل اور مٹی کا تیل بھی مہنگا کردیا گیا پاکستان ہر موقع پر کشمیریوں کے ساتھ کھڑا، حفاظت کر رہا ہے: فاروق عبداللہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی پر اسرائیلی حملہ، 3 افراد جاں بحق، 8 زخمی سعودی عرب میں دو بیلسٹک میزائل حملے ناکام، ملبہ گرنے سے دو افراد زخمی کور کمیٹی کو غیر مؤثر بنانے کی خبریں بے بنیاد ہیں، حتمی اختیار بانی عمران خان کے پاس ہے: بیرسٹر گوہر خیبرپختونخوا وفاق کے تعاون کے بغیر نہیں چل سکتا، دہشتگردی کیخلاف ملکر لڑنا ہوگا: گورنر ایران کا بندر عباس کے قریب ایک اور امریکی ساختہ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ مولانا کو اقتدار میں حصہ نہ ملنے پر شہداء کے خلاف بات نہیں کرنی چاہیے: رانا سکندر حیات ایران کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کا ناقابل تصور جواب دیں گے: باقر قالیباف جنگ بندی کیلئے تمام محاذوں پر لڑائی مکمل بند ہونا ضروری ہے، عباس عراقچی

فلم ‘بلھیا’ پر تنازع: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی اطلاعات کا فلم کا نام اور متنازع ڈائیلاگ تبدیل کرنے کا حکم، نمائش پر پابندی کی ہدایت

Web Desk

23 July 2026

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں متنازع فلم ‘بلھیا’ کی منظوری اور اس کے Content  پر سنسر بورڈ حکام کی بریفنگ کے بعد کمیٹی نے فلم کا نام اور متنازع ڈائیلاگز فوری ختم کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اجلاس کے دوران سنسر بورڈ حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فلم ‘بلھیا’ کو وفاق، پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز نے منظور کیا ہے۔ اگر کمیٹی سمجھتی ہے کہ فلم پر پابندی ہونی چاہیے تو وہ سنسر بورڈ کو باضابطہ ہدایات دے سکتی ہے۔ بورڈ حکام نے مزید کہا کہ فلم کے رائٹر ناصر ادیب انتہائی سینئر اور پرانے لکھاری ہیں۔

سماعت کے دوران سینیٹر پرویز رشید اور سنسر بورڈ اراکین کے درمیان سخت مکالمہ ہوا۔ سینیٹر پرویز رشید نے ریمارکس دیے کہ “ناصر ادیب کی ‘مولا جٹ’ کے علاوہ کوئی خاص شہرت نہیں ہے، مولا جٹ آنے سے پہلے مجھے گنڈاسے کا بھی علم نہیں تھا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس عظیم صوفی شخصیت پر فلم بنائی جا رہی ہے، رائٹر خود بھی ان کی خوبیوں سے لاعلم نظر آتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ سنسر بورڈ کے تینوں اراکین بھی حضرت بابا بلھے شاہؒ کی فکر سے ناواقف ہیں۔ انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ بابا بلھے شاہ کے نام پر فلم میں خون بہایا گیا ہے۔

اس پر سنسر بورڈ کے ممبر نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ فلم قدیم کے بجائے “نئے دور کے بلھے” سے متعلق ہے جو الگ طریقے سے مسائل حل کرنا چاہتا ہے، اور بورڈ کو اس کے ڈائیلاگز اس وقت غیر مناسب نہیں لگے تھے۔ جس پر پرویز رشید نے استفسار کیا کہ “اگر کوئی فلم غنی خان يا خوشحال خان خٹک کی شخصیات کے منافی بنائی جائے تو کیا آپ اسے پاس کر دیں گے؟” جس پر ممبر نے جواب دیا کہ وہ ایسی فلم کو ہرگز پاس نہ کرتے۔

اجلاس کے دوران سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ سنسر بورڈ میں ممبران کی نامزدگی کے لیے ایک واضح اور معیار پر مبنی طریقہ کار ہونا چاہیے اور بورڈ کو ہمیشہ یہ سوچنا چاہیے کہ کسی بھی ڈرامے یا فلم کا معاشرے پر کیا اثر پڑے گا۔

کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر سینیٹر پرویز رشید کی تجویز پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے احکامات جاری کیے کہ فلم کا نام ‘بلھیا’ تبدیل کیا جائے۔ فلم میں شامل تمام غیر مناسب ڈائیلاگ ختم کیے جائیں۔ جب تک یہ تبدیلیاں نہیں کی جاتیں، فلم کی نمائش پر پابندی عائد رکھی جائے۔