LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
یمنی فورسز کا حوثی فوجی کیمپ پر فضائی حملہ، 7 افراد ہلاک پاکستان کا افغان طالبان کو ڈی مارش، فضائی حدود کی خلاف ورزی پر شدید احتجاج ماسکو میں عالمی مذہبی اجتماع، حسین محی الدین قادری پاکستان کی نمائندگی کریں گے امریکا سفارت کاری کرے یا مقابلہ، ایران دونوں کیلئے تیار ہے: عباس عراقچی امریکا کو جواب دینا ہوگا، مذاکرات چاہتا ہے یا خلل ڈالنا؟ ایرانی صدر حکمرانوں کے ناجائز معاہدوں نے ملکی معیشت کو تباہ کیا: حافظ نعیم الرحمان پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان باقاعدہ مذاکرات کل سے شروع ہوں گے، معاشی کارکردگی اور اصلاحات پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی امریکی فضائی اڈے کے قریب ہنگامی صورتحال، متعدد افراد گرفتار نورستان جھڑپ، پاکستان نے افغان طالبان کے الزامات مسترد کر دیے: وزراتِ اطلاعات بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 96 گھنٹوں میں 71 سے زائد دہشتگرد ہلاک پاک بحریہ کی آبدوز ہنگور کا لائیو ویپن فائرنگ کا شاندار مظاہرہ امریکی ایف بی آئی کی مطلوبہ فہرست میں شامل مفرور پاکستانی نژاد ڈاکٹر زاہد الاسلام سے متعلق نیا بیان جاری اقوام متحدہ میں شہباز شریف کا خطاب فلسطینی مشن نے سوشل میڈیا پر نمایاں کر دیا وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی علی امین گنڈاپور کے گھر آمد جنوبی افریقہ میں فائرنگ کے دو واقعات میں 27 افراد ہلاک، متعدد زخمی

امریکا کو جواب دینا ہوگا، مذاکرات چاہتا ہے یا خلل ڈالنا؟ ایرانی صدر

Web Desk

27 September 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک انٹرویو کے دوران دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو واضح کرنا ہوگا کہ آیا وہ حقیقی مذاکرات کے لیے تیار ہے یا صرف ان میں خلل ڈالنا چاہتا ہے، کیونکہ ایران کسی بھی قسم کے دباؤ اور دھمکیوں کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔

ایرانی صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران ایک ناقابلِ تسخیر ملک ہے اور اس سے طاقت یا جبر کی زبان میں بات نہیں کی جانی چاہیے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر ایران پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا تو اس کا انتہائی بھرپور جواب دیا جائے گا اور حملہ آوروں کو اپنا بوریا بستر گول کر کے واپس جانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ اس دیرینہ مسئلے کا حل دھمکیوں یا جبر میں نہیں بلکہ صرف اور صرف منصفانه مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ ایران کی بنیادی خواہش یہ ہے کہ امریکہ ایک بار پھر مفاہمت کی یادداشت (معاہدے) پر واپس آئے اور اس کی مکمل پاسداری کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب امریکہ اپنے طے شدہ وعدوں اور باتوں پر ہی عملدرآمد نہیں کرتا، تو محض ملاقاتیں کرنے سے یہ تنازع کیسے حل ہوسکتا ہے؟ ایران کیسے اس بات کا یقین کرے کہ واشنگٹن اپنے وعدوں پر قائم رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟

صدر پزشکیان نے سخت الفاظ میں کہا کہ جن لوگوں نے ایران کے رہنماؤں اور معصوم اسکول کے بچوں کو شہید کیا ہے، کیا ایران ان کے پاس ذلت کے ساتھ جاکر مذاکرات کی بھیک مانگے گا؟ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ “ہم مر جائیں گے لیکن کبھی بھی ذلت کا طوق اپنے  میں قبول نہیں کریں گے۔”

اسرائیلی قیادت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو جو خود غزہ کے محاذ پر کامیابی حاصل نہیں کر سکے اور وہاں شکست سے دوچار ہیں، وہ بھلا ایران میں حکومت کی تبدیلی کا خواب کیسے پورا کر سکتے ہیں۔ مسعود پزشکیان کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل یہ خام خیالی پال رہے ہیں کہ وہ شدید دباؤ کے ہتھکنڈوں کے ذریعے ایران کو ختم کر دیں گے، تاہم ایران تمام اندرونی و بیرونی مشکلات پر پوری مضبوطی اور استقامت کے ساتھ قابو پالے گا۔