LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
چین کی پھر ایران امریکا تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کی حمایت دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت کے ساتھ جاری رہے گی: فیلڈ مارشل متحدہ عرب امارات سے 3,494 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، بیشتر جرائم یا غیر قانونی قیام کے باعث نکالے گئے؛ وفاقی وزیر پاکستان نے تیل و گیس کے 8 ایکسپلوریشن بلاکس حاصل کر لئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرنس رحیم آغا خان کے اعزاز میں ناشتہ کی تقریب ؛ مرحوم پرنس کریم آغا خان چہارم کی خدمات پر یادگاری ڈاک ٹکٹ پیش محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال وفاقی آئینی عدالت کی اسلام قبول کرنے والی خاتون عائشہ کو اپنی مرضی سے رہنے کی اجازت دنیا فلوٹیلا کارکنوں سے بدسلوکی کا نوٹس لے، محفوظ واپسی یقینی بنائے: پاکستان شمالی وزیرستان میں خارجی کمانڈر عمر 4 دہشت گردوں سمیت جہنم واصل وزیرِ اعظم کی ای سی سی ارکان کی تعداد میں اضافے کی منظوری میر واعظ مولوی محمد فاروق اور عبدالغنی لون کا آج یومِ شہادت پی ٹی آئی ارکان اسمبلی و رہنما 23 جولائی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم سلامتی کونسل ایران کیخلاف بلا اشتعال حملے روکنے میں ناکام رہی: ایران کی شدید تنقید وزیراعلیٰ مریم نواز کا ثقافتی ورثے کے تحفظ کے عزم کا اعادہ پاک چین سفارتی تعلقات 75 سال میں پائیدار دوستی کی شاندار مثال بن گئے: صدر، وزیراعظم

محسن نقوی کی عباس عراقچی سے ملاقات، علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال

Web Desk

21 May 2026

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور پاک امریکہ-ایران سفارتی محاذ پر پاکستان کی جانب سے خطے میں مستقل امن اور جنگ بندی کے لیے جاری کوششوں میں غیر معمولی تیزی آ گئی ہے۔ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی گزشتہ روز ایک اہم اور غیر اعلانیہ دورے پر تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت دیگر اعلٰی حکام سے تفصیلی ملاقاتیں کیں، جس میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور تہران-واشنگٹن مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت کے دوران وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا تہران کا یہ دوسرا ہنگامی دورہ ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جانے والے حملوں کے بعد خطے میں شروع ہونے والی جنگ کو روکنے کے لیے پاکستان نے ایک اہم اور تاریخی ثالث (Mediation) کا کردار ادا کیا ہے، جسے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی قیادت اور دیگر عالمی طاقتوں کی جانب سے بھی بھرپور طریقے سے سراہا گیا ہے۔

پاکستان کی انہی سنجیدہ کوششوں اور سفارتی ثالثی کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ وفود کے درمیان 11 اپریل کو اسلام آباد میں براہِ راست تاریخی مذاکرات بھی ہوئے تھے، جو اگرچہ کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے تھے، تاہم پاکستان خطے کو بڑی تباہی سے بچانے، مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانے اور دونوں ممالک کو کسی مشترکہ معاہدے پر لانے کے لیے مسلسل پسِ پردہ سفارت کاری میں مصروف ہے اور محسن نقوی کا یہ دورہ اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

دوسری جانب، واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے سخت اور اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اس وقت ایک تاریخی معاہدے اور دوبارہ حملے کے بالکل درمیانی بارڈر لائن (فیصلہ کن موڑ) پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہمیں تہران کی جانب سے درست جوابات نہیں ملتے تو معاملات بہت تیزی سے جنگ کی طرف آگے بڑھیں گے اور امریکہ کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ معاہدہ بہت جلد یا چند دنوں میں بھی ہو سکتا ہے، لیکن تہران کو ہماری شرائط پر سو فیصد درست جوابات دینے ہوں گے۔

امریکی موقف کے جواب میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں میڈیا کو بتایا کہ ایران کو پاکستانی سفارت کاروں کے ذریعے امریکی فریق کا تفصیلی نقطہ نظر موصول ہو چکا ہے اور اعلیٰ قیادت اس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ تہران اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور انہوں نے بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی فوری بحالی اور ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی (Blockade) کو ختم کرنے کے ایرانی مطالبات کو ایک بار پھر دہرایا۔ معاشی و دفاعی ماہرین کے مطابق، محسن نقوی کا حالیہ دورہ تہران اس نازک موڑ پر ایران کو امریکی شرائط پر راضی کرنے اور جنگ کو مستقل طور پر ٹالنے کی آخری سفارتی کوشش ہو سکتی ہے۔