LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی سہولت فعال نہ ہونے پر وزیراعظم کا نوٹس، انکوائری کمیٹی قائم مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے پاکستان کی علاقائی اہمیت میں اضافہ، ایف پی آئی ایف ٹرمپ کا جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان بنگلہ دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودیہ کے دفاعی معاہدے میں شمولیت کا اشارہ دیدیا پاکستان ریلوے کا ریونیو 115 ارب روپے سے تجاوز، روہڑی کراچی ٹریک کے لیے $2.5B کا معاہدہ طے سندھ میں 80 فیصد آبادی آلودہ پانی پینے پر مجبور ہے: مصطفیٰ کمال وفاقی حکومت نے راولپنڈی میں پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی بانی کی ہسپتال منتقلی کا معاملہ، سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر محسن نقوی سے ملائیشین ہم منصب کی ملاقات، انسدادِ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت میں مزید شدت آگئی صدر زرداری سے ملائیشین وزیرِ داخلہ کی ملاقات، سکیورٹی و تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق امریکی پابندیاں دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں دھکیل سکتی ہیں: اسماعیل بقائی نیٹو رکن ممالک میں آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعاون پر غور دہشتگردی کے متاثرین کی بلا امتیاز حمایت ضروری ہے، پاکستانی مندوب آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت صرف 4 فیصد رہ گئی

پروسٹیٹ کینسر سے متعلق خون کے نئے ٹیسٹ کی آزمائش

Web Desk

19 May 2026

لندن: سائنس دانوں نے ایک ایسے انقلابی بلڈ ٹیسٹ کی کامیاب آزمائش کی ہے جو مستقبل میں ڈاکٹروں کو یہ جاننے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا کہ پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں پر ادویات یا علاج کب اثر کرنا چھوڑ رہا ہے۔ ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق یہ تاریخی پیشرفت کینسر کے مریضوں کے لیے زیادہ ذاتی نوعیت کے (Personalized) علاج کو ممکن بنا سکتی ہے اور ایڈوانس اسٹیج (آخری مراحل) کی بیماری میں مبتلا مردوں کی زندگی کی مدت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تحقیق میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ آیا انسانی خون میں موجود ٹیومر کے ڈی این اے ($DNA$) کے نہایت باریک ذرات کے ذریعے کینسر کی مسلسل نمو کو ابتدائی مراحل میں ہی پکڑا جا سکتا ہے یا نہیں۔ برطانیہ کے 14 مختلف این ایچ ایس (NHS) ہسپتالوں اور مراکز میں کی گئی اس تحقیق میں 117 ایسے مردوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں حال ہی میں پھیل جانے والے (میٹاسٹیٹک) پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

محققین نے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد دریافت کیا کہ کینسر کا علاج شروع ہونے کے محض چھ سے بارہ ہفتوں کے اندر ہی ہر 10 میں سے 3 مریضوں کے خون میں ٹیومر کا ڈی این اے واضح طور پر موجود تھا۔ تحقیق کا سب سے اہم اور تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا کہ جب ان ڈی این اے ٹیسٹس کو روایتی پی ایس اے ($PSA$) لیولز کے ساتھ ملا کر دیکھا گیا، تو ایسے مریضوں کی فوری نشاندہی ہو گئی جن کی موت کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 20 گُنا زیادہ تھا جن کے خون میں ٹیومر کا ڈی این اے غائب تھا اور پی ایس اے لیول بھی کم تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیسٹ کی مدد سے ڈاکٹر بروقت علاج تبدیل کر کے مریضوں کی جانیں بچا سکیں گے۔