LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
حوثیوں کا سعودی عرب پر ڈرون حملہ، ایک شہری جاں بحق، پاکستانی سمیت 2 زخمی قیصر احمد شیخ کی نٹالی بیکر سے ملاقات، پاک امریکا اقتصادی و تجارتی تعاون بڑھانے پر زور امریکی ایوان نمائندگان نے ایران اور روس پر پابندیوں کا بل منظور کرلیا عراقچی کا ترک ہم منصب سے ٹیلی فونک رابطہ، علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال دفتر خارجہ میں دستاویزات کی تصدیق کی رپورٹ، ڈی جی آڈٹ عہدے سے ہٹا دیئے گئے ادویات کنٹینرز روکنے کی خبر پر محسن نقوی کا نوٹس، فوری ریلیز کا حکم چین کے ساتھ مذاکرات کامیاب، آج کے فیصلے خطے کے مستقبل کا تعین کرینگے: عراقچی نئی کفایت شعاری مہم، سرکاری فیول میں 50 فیصد کٹوتی، غیرملکی دوروں، خریداری پر پابندی پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو حراست میں لے لیا گیا پنجاب نے کسی کا حق نہیں کھایا، اپنے حصے سے دوسروں کو دیا: وزیراعلیٰ مریم نواز تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان کا سربراہی اجلاس کل اسلام آباد میں طلب، لانگ مارچ پر مشاورت ہو گی اقوام متحدہ کی تحقیقات، ایران میں امریکی حملوں پر جنگی جرائم کے شواہد کا دعویٰ کردیا 27ستمبر کو پی ٹی آئی اسلام آباد نہیں پہنچے گی، بانی کی رہائی سزا پوری ہونے کے بعد ممکن ہے: فیصل کریم کنڈی پارلیمنٹ ہاؤس: اپوزیشن چیمبر میں علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کی ملاقات، آئین تحفظ اجلاس پر اہم مشاورت وزیراعلیٰ مریم نواز نے دورہ لندن کیلئے سرکاری طیارے کے استعمال کی رقم ادا کردی

پروسٹیٹ کینسر سے متعلق خون کے نئے ٹیسٹ کی آزمائش

Web Desk

19 May 2026

لندن: سائنس دانوں نے ایک ایسے انقلابی بلڈ ٹیسٹ کی کامیاب آزمائش کی ہے جو مستقبل میں ڈاکٹروں کو یہ جاننے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا کہ پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں پر ادویات یا علاج کب اثر کرنا چھوڑ رہا ہے۔ ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق یہ تاریخی پیشرفت کینسر کے مریضوں کے لیے زیادہ ذاتی نوعیت کے (Personalized) علاج کو ممکن بنا سکتی ہے اور ایڈوانس اسٹیج (آخری مراحل) کی بیماری میں مبتلا مردوں کی زندگی کی مدت میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

یونیورسٹی کالج لندن (UCL) کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس تحقیق میں یہ جانچنے کی کوشش کی گئی کہ آیا انسانی خون میں موجود ٹیومر کے ڈی این اے ($DNA$) کے نہایت باریک ذرات کے ذریعے کینسر کی مسلسل نمو کو ابتدائی مراحل میں ہی پکڑا جا سکتا ہے یا نہیں۔ برطانیہ کے 14 مختلف این ایچ ایس (NHS) ہسپتالوں اور مراکز میں کی گئی اس تحقیق میں 117 ایسے مردوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں حال ہی میں پھیل جانے والے (میٹاسٹیٹک) پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔

محققین نے ٹیسٹ کے نتائج کے بعد دریافت کیا کہ کینسر کا علاج شروع ہونے کے محض چھ سے بارہ ہفتوں کے اندر ہی ہر 10 میں سے 3 مریضوں کے خون میں ٹیومر کا ڈی این اے واضح طور پر موجود تھا۔ تحقیق کا سب سے اہم اور تشویشناک پہلو یہ سامنے آیا کہ جب ان ڈی این اے ٹیسٹس کو روایتی پی ایس اے ($PSA$) لیولز کے ساتھ ملا کر دیکھا گیا، تو ایسے مریضوں کی فوری نشاندہی ہو گئی جن کی موت کا خطرہ اُن افراد کے مقابلے میں 20 گُنا زیادہ تھا جن کے خون میں ٹیومر کا ڈی این اے غائب تھا اور پی ایس اے لیول بھی کم تھا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیسٹ کی مدد سے ڈاکٹر بروقت علاج تبدیل کر کے مریضوں کی جانیں بچا سکیں گے۔