LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
امریکا-ایران کشیدگی، امارات میں تمام امریکی قونصلرز کی تقرری منسوخ کراچی میں رینجرز کیمپ پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قاری بشیر گرفتار پاکستان اور امریکا کا انسدادِ دہشتگردی، سائبر سکیورٹی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان اور بنگلہ دیش کا خواتین کو بااختیار بنانے اور دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق تیل کی قیمتیں ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں مریم نواز سنٹر آف اکیڈمک لیڈر شپ پائلٹ پراجیکٹ کی منظوری ایران آبنائے ہرمز کا محافظ ہے اور ہمیشہ رہے گا، ٹرمپ ٹول بہت زیادہ ہے: عباس عراقچی پاکستان سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، 3000 سے زائد پوائنٹس کی کمی پاکستان اور جنوبی افریقہ ویمنز انڈر 19 کا پہلا ٹی 20 میچ آج ہوگا شہداء کی قربانیوں کو تنخواہ سے جوڑنا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہےخواجہ آصف ایران کے بحرین میں ففتھ فلیٹ، اماراتی ٹینکروں، امریکی بحری جہاز پر حملے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمہ کیلئے ایران سے معاہدہ اب بھی ممکن ہے: ٹرمپ پاکستان کی سعودی عرب پر حوثیوں کے بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید مذمت انٹرنل ریونیو سروس کیخلاف مقدمے میں ٹرمپ کی نمائندگی کرنیوالے وکلا کو سزائیں سنادی گئیں امریکا کو آبنائے ہرمز پر ٹیکس یا فیس عائد کرنے کا اختیار نہیں: مارک ویلر

متحدہ عرب امارات سے 3,494 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، بیشتر جرائم یا غیر قانونی قیام کے باعث نکالے گئے؛ وفاقی وزیر

Web Desk

21 May 2026

متحدہ عرب امارات (UAE) سے پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کے حوالے سے سینیٹ میں پیش کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹس پر وفاقی حکومت کی جانب سے باقاعدہ مؤقف سامنے آ گیا ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو اصل حقائق اور سرکاری اعدادوشمار سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے معاملے کی حساسیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے، جس پر وزارتِ خارجہ سے مکمل اور تفصیلی اعدادوشمار طلب کر کے جلد ایوان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین تاریخی اور بہترین برادرانہ روابط قائم ہیں اور اس وقت بھی پاکستانی مزدوروں اور پیشہ ور افراد کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں امن و امان کے ساتھ مقیم اور برسرِ روزگار ہے۔

حکومت کے پاس موجود حالیہ اطلاعات اور سرکاری ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اب تک مجموعی طور پر 3 ہزار 4 سو 94 (3,494) پاکستانیوں کو یو اے ای سے ڈی پورٹ (Deport) کیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جو پاکستانی شہری قانونی دستاویزات اور ورک ویزا رکھتے ہیں، وہ وہاں باقاعدہ اور بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں۔ اماراتی قوانین کے مطابق، اگر کوئی شخص وہاں غیر قانونی طور پر مقیم پایا جاتا ہے تو اس کے بارے میں وہاں کا محکمہ امیگریشن پاکستانی سفارت خانے کو لازمی آگاہ کرتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ نکالے گئے افراد میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو وہاں سنگین یا معمولی جرائم میں ملوث پائے گئے تھے، جس کے باعث انہیں قانون کے مطابق ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ کچھ لوگ خطے کے حالیہ معاشی حالات اور ملازمتیں ختم ہونے کی وجہ سے اپنی نوکریاں گنوا بیٹھے اور ویزا کی مدت ختم ہونے پر وطن واپس آئے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسے معاملات کو بلاوجہ اچھالا جاتا ہے جس سے سفارتی تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

دورانِ گفتگو وفاقی وزیر نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر ایک اور افسوسناک خبر دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ایران امریکہ تنازع اور فوجی کارروائیوں کی زد میں آ کر اب تک چار (4) معصوم پاکستانی شہری شہید جبکہ ستائیس (27) شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں سفارتی سطح پر ہر ممکن امداد فراہم کی جا رہی ہے۔