متحدہ عرب امارات سے 3,494 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، بیشتر جرائم یا غیر قانونی قیام کے باعث نکالے گئے؛ وفاقی وزیر
Web Desk
21 May 2026
متحدہ عرب امارات (UAE) سے پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کے حوالے سے سینیٹ میں پیش کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹس پر وفاقی حکومت کی جانب سے باقاعدہ مؤقف سامنے آ گیا ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو اصل حقائق اور سرکاری اعدادوشمار سے آگاہ کیا۔
وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے معاملے کی حساسیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے، جس پر وزارتِ خارجہ سے مکمل اور تفصیلی اعدادوشمار طلب کر کے جلد ایوان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین تاریخی اور بہترین برادرانہ روابط قائم ہیں اور اس وقت بھی پاکستانی مزدوروں اور پیشہ ور افراد کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں امن و امان کے ساتھ مقیم اور برسرِ روزگار ہے۔
حکومت کے پاس موجود حالیہ اطلاعات اور سرکاری ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اب تک مجموعی طور پر 3 ہزار 4 سو 94 (3,494) پاکستانیوں کو یو اے ای سے ڈی پورٹ (Deport) کیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جو پاکستانی شہری قانونی دستاویزات اور ورک ویزا رکھتے ہیں، وہ وہاں باقاعدہ اور بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں۔ اماراتی قوانین کے مطابق، اگر کوئی شخص وہاں غیر قانونی طور پر مقیم پایا جاتا ہے تو اس کے بارے میں وہاں کا محکمہ امیگریشن پاکستانی سفارت خانے کو لازمی آگاہ کرتا ہے۔
طارق فضل چوہدری نے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ نکالے گئے افراد میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو وہاں سنگین یا معمولی جرائم میں ملوث پائے گئے تھے، جس کے باعث انہیں قانون کے مطابق ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ کچھ لوگ خطے کے حالیہ معاشی حالات اور ملازمتیں ختم ہونے کی وجہ سے اپنی نوکریاں گنوا بیٹھے اور ویزا کی مدت ختم ہونے پر وطن واپس آئے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسے معاملات کو بلاوجہ اچھالا جاتا ہے جس سے سفارتی تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
دورانِ گفتگو وفاقی وزیر نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر ایک اور افسوسناک خبر دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ایران امریکہ تنازع اور فوجی کارروائیوں کی زد میں آ کر اب تک چار (4) معصوم پاکستانی شہری شہید جبکہ ستائیس (27) شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں سفارتی سطح پر ہر ممکن امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
متعلقہ عنوانات
پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن
27 August 2026
بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر
27 August 2026
پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
27 August 2026
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا
27 August 2026
سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر
27 August 2026
دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی
27 August 2026
امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ
27 August 2026
گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک
27 August 2026