LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
پمز ہسپتال کے واقعے نے قوم کو غم میں مبتلا کر دیا: حافظ نعیم الرحمٰن بانی پی ٹی آئی کی شفا انٹرنیشنل منتقلی کا معاملہ: عظمیٰ خان کی توہینِ عدالت کی فوری سماعت کے لیے نئی درخواست دائر پمز حادثہ انتہائی دل خراش، کیٹی بندر پر ڈیپ سی پورٹ بنانا شہید بینظیر بھٹو کا خواب تھا: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی وزیر صحت سے استعفے کا مطالبہ کردیا سانحہ پمز کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست دائر دو سال سے زائد عرصے میں ٹرائل شروع نہ ہوسکا، قتل کیس کے ملزم کو ضمانت مل گئی امریکا، ایران کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں: دفتر خارجہ گیس سبسڈی نظام اور قیمتوں کے سلیب پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز ملک ایران کا ایک بار پھر حملوں سے متاثرہ جوہری تنصیبات کے معائنے سے انکار ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی تازہ ترین صورتحال: واپڈا نے اعداد و شمار جاری کر دیے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر نواف بن سعید کی الوداعی ملاقات مریم نواز کا سنکیانگ میں معروف چینی ڈیری کمپنی کے ہیڈکوارٹر کا دورہ ایران نے نئی امریکی پابندیوں کو ریاستی اور معاشی دہشت گردی قرار دے دیا ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زندہ مگر شدید زخمی ہیں: ٹرمپ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں فورسز کی کارروائیاں، 11 دہشت گرد ہلاک

متحدہ عرب امارات سے 3,494 پاکستانی ڈی پورٹ ہوئے، بیشتر جرائم یا غیر قانونی قیام کے باعث نکالے گئے؛ وفاقی وزیر

Web Desk

21 May 2026

متحدہ عرب امارات (UAE) سے پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کے حوالے سے سینیٹ میں پیش کیے گئے توجہ دلاؤ نوٹس پر وفاقی حکومت کی جانب سے باقاعدہ مؤقف سامنے آ گیا ہے۔ قائدِ حزبِ اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے نوٹس کا جواب دیتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے ایوان کو اصل حقائق اور سرکاری اعدادوشمار سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے معاملے کی حساسیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ واقعی یہ ایک انتہائی اہم اور سنجیدہ معاملہ ہے، جس پر وزارتِ خارجہ سے مکمل اور تفصیلی اعدادوشمار طلب کر کے جلد ایوان کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین تاریخی اور بہترین برادرانہ روابط قائم ہیں اور اس وقت بھی پاکستانی مزدوروں اور پیشہ ور افراد کی ایک بہت بڑی تعداد وہاں امن و امان کے ساتھ مقیم اور برسرِ روزگار ہے۔

حکومت کے پاس موجود حالیہ اطلاعات اور سرکاری ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ اب تک مجموعی طور پر 3 ہزار 4 سو 94 (3,494) پاکستانیوں کو یو اے ای سے ڈی پورٹ (Deport) کیا گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جو پاکستانی شہری قانونی دستاویزات اور ورک ویزا رکھتے ہیں، وہ وہاں باقاعدہ اور بغیر کسی رکاوٹ کے کام کر رہے ہیں۔ اماراتی قوانین کے مطابق، اگر کوئی شخص وہاں غیر قانونی طور پر مقیم پایا جاتا ہے تو اس کے بارے میں وہاں کا محکمہ امیگریشن پاکستانی سفارت خانے کو لازمی آگاہ کرتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے ڈی پورٹ کیے جانے والے افراد کی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ نکالے گئے افراد میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جو وہاں سنگین یا معمولی جرائم میں ملوث پائے گئے تھے، جس کے باعث انہیں قانون کے مطابق ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ کچھ لوگ خطے کے حالیہ معاشی حالات اور ملازمتیں ختم ہونے کی وجہ سے اپنی نوکریاں گنوا بیٹھے اور ویزا کی مدت ختم ہونے پر وطن واپس آئے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے ہاں سوشل میڈیا پر بغیر تحقیق کے ایسے معاملات کو بلاوجہ اچھالا جاتا ہے جس سے سفارتی تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔

دورانِ گفتگو وفاقی وزیر نے خطے کی سکیورٹی صورتحال پر ایک اور افسوسناک خبر دیتے ہوئے بتایا کہ حالیہ ایران امریکہ تنازع اور فوجی کارروائیوں کی زد میں آ کر اب تک چار (4) معصوم پاکستانی شہری شہید جبکہ ستائیس (27) شدید زخمی ہوئے ہیں، جنہیں سفارتی سطح پر ہر ممکن امداد فراہم کی جا رہی ہے۔