LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
کوسوو میں اپوزیشن رکن اسمبلی نے قائم مقام وزیراعظم پر انڈے پھینک دیے سعودی عرب اور یمن کی متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حملے کی مذمت آزاد جموں و کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ کل ہوگا آئی ایس پی آر سمر انٹرن شپ پروگرام، ڈاکٹر معید یوسف کی طلبہ کیساتھ خصوصی نشست نائجیریا کی تاریخ کا سب سے بڑا ریسکیو آپریشن، 6ماہ سے جنگل میں قید 308 افراد بازیاب صدر کا قدیم مقامی باشندگان کے حقوق، ثقافت کے تحفظ کیلئے پاکستان کے عزم کا اعادہ محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن کے عمل کا جائزہ لیا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کے کسی ملک کیلئے خطرہ نہیں: سعودی عہدیدار کیریبین جزیرے میں واقع تاریخی آتش فشاں ماؤنٹ پیلے ایک بار پھر فعال اسماء جتک کو دھمکیوں اور اہل خانہ کے قتل کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم واٹس ایپ کا آئی فون صارفین کیلئے اہم فیچر متعارف کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا میں لگی آگ شدت اختیار کر گئی، ہنگامی حالت نافذ کیف میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں 3 سالہ بچہ دادا، دادی سمیت ہلاک پروسٹیٹ کینسر ہڈیوں سے آگے تک پھیل گیا، سابق صدر بائیڈن کو شدید درد کا سامنا ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھولنے کیلئے امریکا کو 6 شرائط پیش کر دیں

امریکا مفاہمت اختیار کرے، معاہدے کیلئے موجودہ صورتحال بہترین ہے: ایرانی صدر

Web Desk

9 August 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی کامیاب سفارتکاری اور مذاکرات کی حکمتِ عملی نے امریکا کو مجبور کیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اختیار کرے، اور ایک جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے موجودہ صورتحال سب سے بہترین وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اسلام آباد مفاہمتی یادداشت’ کے تحت امریکا کے لیے ضروری تھا کہ وہ ایران اور عمان کی تیار کردہ گائیڈ لائنز کی پاسداری کرے، لیکن جب امریکا نے اس کی خلاف ورزی کی تو ایران کو اپنا قانونی اور دفاعی ردعمل دینا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ ٹیم کا ہونا ضروری ہے، اور ایران پورے وقار اور فخر کے ساتھ اس راستے پر پیشرفت جاری رکھے گا۔

امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے اسے ایک استعماری اور مجرم حکومت قرار دیا اور کہا کہ امریکا سے متعلق ایران کے بنیادی رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ امریکا اور اسرائیل اب یہ اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ محض جنگ کے ذریعے ایرانی قوم کو اپنے احکامات ماننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دشمن اب ایرانی قوم میں داخلی تقسیم، نااتفاقی اور تنازعات کو بطور حربہ استعمال کر سکتا ہے، لہٰذا قومی اتحاد، استقامت اور پائیدار مزاحمت ہی ملک کی سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیتوں کو محفوظ رکھنے کا واحد اور لازمی راستہ ہیں۔