LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY: ▲ ▼
China: ▲ ▼
Pakistan: ▲ ▼
India: ▲ ▼
TV ONE Logo
اہم خبریں
شرجیل میمن نے متحدہ کی سڑکیں بند کرنے کی دھمکیا ں دہشتگردانہ عمل قرار دیدیں روس کا 24 گھنٹوں میں 1175 یوکرینی فوجی ہلاک یا زخمی، 391 ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ امریکی بحری ناکابندی کے باوجود ایرانی ٹینکر 20 لاکھ بیرل تیل لے کر چین پہنچ گیا امریکا ایران جنگ کے خاتمے کیلئے دوحہ میں مذاکرات جاری، ایرانی وفد بھی موجود آبنائے ہرمز میں پاکستان آنے والے ایل این جی جہاز ’ال مایدا‘ پر حملہ، جہاز کو نقصان لیکن عملہ محفوظ پاکستان کا امریکی وزیر خارجہ کے بیان کا خیرمقدم، دہشتگردوں کیخلاف اقدامات کا مطالبہ افغان طالبان نے دہشتگردی کی حمایت بند نہ کی تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی: ترجمان پاک فوج ایران نے برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دے دیا نئی جنگ ہوئی تو تنازع مغربی ایشیا تک محدود نہیں رہے گا، ایرانی فوج کی وارننگ خیبرپختونخوا کے 47 فیصد سرکاری سکول غیر محفوظ قرار: رپورٹ پاکستان ترقی پذیر ممالک کے جی 24 گروپ کا چیئرمین بن گیا، وزیراعظم کا اظہارِ مسرت ایرانی حملوں سے24 امریکی فوجی اڈے اور 274 عمارتیں تباہ ہوئیں: امریکی اخبار ایل پی جی ایسوسی ایشنز کا 16 نومبر سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کراچی پورٹ پر کھاد اور گندم سے لدے 2 بحری جہازوں کی آمد مہنگائی کے خلاف احتجاج، فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بڑے مظاہرے

ایران امریکا مذاکرات میں جمود اور شرحِ سود بڑھنے کے خدشات، اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کی زد میں، 513 ارب ڈوب گئے

Web Desk

16 May 2026

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے لیے رواں کاروباری ہفتہ انتہائی مایوس کن اور شدید مندی کا حامل رہا۔ چین میں ‘پانڈا بانڈز’ کے تاریخی اور زبردست اجراء جیسی بڑی مثبت معاشی پیش رفت کے باوجود، عالمی و مقامی منفی عوامل مارکیٹ پر حاوی رہے۔ ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات میں اچانک پیدا ہونے والے جمود اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرحِ سود (Interest Rate) میں مزید اضافے کے شدید خدشات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بری طرح ہلا کر رکھ دیا، جس کے باعث حصص بازار مسلسل گراوٹ کا شکار رہا۔

انڈیکس کی صورتحال اور ریکارڈ تنزلی: ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس (KSE-100 Index) میں ریکارڈ 5,520 پوائنٹس کی بھاری کمی دیکھی گئی، جو کہ فیصد کے اعتبار سے 3.2 فیصد کی بڑی تنزلی بنتی ہے۔ اس شدید مندی کے بعد 100 انڈیکس مجموعی طور پر 1 لاکھ 65 ہزار 596 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ کاروباری ہفتے کے دوران انڈیکس نے ایک موقع پر 1,71,571 پوائنٹس کی ہفتہ وار بلند ترین سطح (High) کو بھی چھوا تھا، تاہم مندی کی لہر آنے پر یہ گر کر 1,65,291 پوائنٹس کی ہفتہ وار کم ترین سطح (Low) تک نیچے چلا گیا تھا۔

اربوں روپے کا نقصان اور تجارتی حجم میں کمی: مارکیٹ میں ہونے والی اس مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کو شدید مالی دھچکا لگا ہے اور ان کے ہفتہ وار 513 ارب 82 کروڑ روپے ڈوب گئے۔ اس گراوٹ کے باعث مارکیٹ کی مجموعی مالیت (Market Capitalization) ہفتہ وار بنیادوں پر 514 ارب روپے کی نمایاں کمی کے ساتھ 18 ہزار 390 ارب روپے کی سطح پر آ گئی۔

مندی کی وجہ سے مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیاں بھی کافی ماند رہیں۔ حصص بازار کا اوسط یومیہ تجارتی حجم (Average Daily Volume) ہفتہ وار بنیادوں پر 5.2 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 82 کروڑ 70 لاکھ شیئرز رہ گیا۔ مزید برآں، مارکیٹ کی اوسط یومیہ تجارتی مالیت (Average Daily Value) میں بھی ہفتہ وار 39.5 فیصد کی غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد یہ سکڑ کر محض 9 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہ گئی۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک علاقائی سیاسی تناؤ کم نہیں ہوتا اور مانیٹری پالیسی کا واضح رخ سامنے نہیں آتا، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا یہ سلسلہ برقرار رہ سکتا ہے۔