LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
نیویارک کے مشہور ساحلی علاقے کونی آئی لینڈ میں فائرنگ، 4 بچوں سمیت 8 افراد زخمی اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوئی، ڈرون حملے میں مزید 2 فلسطینی شہید، متعدد زخمی یورپ میں شدید گرمی کی لہر برقرار، اموات 4 ہزار سے تجاوز کر گئیں اسرائیلی فوج کے سربراہ کا لبنان میں فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، باقر قالیباف ٹرمپ نے کہا وٹکوف، جیرڈ کشنر دوبارہ ماسکو آنے کیلئے تیار ہیں: ترجمان کریملن صدر ٹرمپ انقرہ میں نیٹو ممالک کے اجلاس میں شرکت کریں گے، وائٹ ہاؤس اوپیک پلس ممالک کا اگست کیلئے تیل کی پیداوار بڑھانے کا فیصلہ امریکی نیوی نے بحیرہ عرب میں لاپتہ اہلکار کی تلاش روک دی گروپ کیپٹن کو شہید کرنے والا ملزم سعد 9 گھنٹوں میں گرفتار کر لیا: آئی جی اسلام آباد وفاقی وزیر احسن اقبال کا دورہ امریکہ: ہیلتھ کیئر اور معاشی ترقی کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کو شراکت داری کی دعوت، ٹیلی میڈیسن ماڈل کی تجویز فلسطینی علاقوں پر قبضہ ختم ہونے تک اسرائیل سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے، مصر یمنی فورسز اور حوثیوں کے درمیان جھڑپوں میں 65 اموات کی تصدیق شہید رہبراعلیٰ کے خون کا بدلہ ضرور لیں گے، مشیر ایرانی سپریم لیڈر پشاور: چینی باشندوں کی حفاظت کےلئے فول پروف نظام قائم

وزیر اعظم کا بڑا فیصلہ، نیب کے گریڈ 21 کے افسر کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی جے آئی ٹی تشکیل

Web Desk

1 July 2026

اسلام آباد: وزیر اعظم پاکستان نے وفاقی دارالحکومت کے انتہائی اہم اور طویل عرصے سے زیرِ بحث ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ معاملے پر ایک بڑا اور تزویراتی فیصلہ کرتے ہوئے ہائی لیول جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دے دی ہے۔ یہ اہم اقدام وزیر قانون کی سربراہی میں قائم مصلحانہ کمیٹی اور کابینہ ڈویژن کی جانب سے کی گئی سفارشات کی روشنی میں اٹھایا گیا ہے، جس کی حتمی منظوری وزیر اعظم نے باقاعدہ طور پر دے دی ہے اور وزیر اعظم آفس نے اس تزویراتی جے آئی ٹی کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم میں گریڈ 21 یا اس سے اوپر کے مروجہ و سینئر افسران کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (NAB) کے گریڈ 21 کے ایک اعلیٰ افسر کو جے آئی ٹی کا کنوینر (سربراہ) مقرر کیا گیا ہے۔ اس تحقیقاتی فریم ورک کو فول پروف اور سائنسی بنانے کے لیے نیب کے علاوہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA)، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR)، انٹر سروسز انٹیلیجنس (ISI) اور انٹیلیجنس بیورو (IB) کے مروجہ نمائندے اور افسران بھی اس جے آئی ٹی کا لازمی حصہ ہوں گے۔یہ ہائی لیول جے آئی ٹی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے تمام قانونی، انتظامی اور مالیاتی امور کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لے گی اور مینوئل فریم ورک کے تحت گہرائی میں جا کر تحقیقات کرے گی۔ وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کو اپنی جامع تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر کے جمع کرانے کے لیے 60 دن کی تزویراتی مہلت دی ہے۔ نوٹیفکیشن میں نیب کو جے آئی ٹی کی سیکرٹریل سپورٹ فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں، جبکہ وفاق کے تمام ڈویژنز، وزارتیں اور مروجہ محکمے قانوناً اس بات کے پابند ہوں گے کہ وہ تحقیقات کے دوران جے آئی ٹی کو ہر ممکن اور مکمل معاونت فراہم کریں۔