LIVE TV
Watch Now
Gold:
Intl: /g (22K) PK: /g (22K)
Stocks:
NY:
China:
Pakistan:
India:
TV ONE Logo
اہم خبریں
مکہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، جارحیت کا کوئی عنصر نہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اہم سمریوں کی منظوری دے دی نیویارک سے 36 نایاب اور چوری شدہ پاکستانی نوادرات کی واپسی، امریکہ اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی ملائیشیا کا اسرائیلی فوج کیلئے امداد کو اپنے ملک سے گزرنے کی اجازت نہ دینے کا اعلان اقوام متحدہ کا معائنہ کاروں کو غزہ کے تمام حصوں تک رسائی دینے کا مطالبہ ٹرمپ انتظامیہ کا اسرائیل کو تباہی کیلئے 2 ہزار پاؤنڈ وزنی بم فروخت کرنے کا منصوبہ صومالی صدر کی رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات، انسانی خدمات پر تبادلہ خیال جاپانی وزیراعظم کا حکمراں جماعت اور کابینہ میں ردوبدل کا اعلان روسی حملے روکنے پر یوکرین کا بھی بعض اہداف پر حملے روکنے کا اعلان پاکستان کا حوثی حملوں کے خلاف سعودی دفاعی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان آئندہ چند ماہ میں ایران جنگ بالکل مختلف مرحلے میں داخل ہو جائے گی، جے ڈی وینس لیتھوانیا کی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ڈرون تباہ کر دیا گیا جرمنی میں طیارہ حادثے کا شکار، 3 ڈچ شہری ہلاک کولمبیا میں 5.2 شدت کا زلزلہ

مون سون میں کسی بھی جانی و مالی نقصان سے بچنے کیلئے ابھی سے تیاری کی ہدایت

Web Desk

19 November 2025

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے حکومتی حکمتِ عملی پر جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئندہ برس مون سون کے دوران کسی بھی ممکنہ جانی یا مالی نقصان سے بچنے کے لیے پیشگی اقدامات پر غور کیا گیا۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ آئندہ مون سون کے نقصانات سے بچنے کے لیے ابھی سے جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ انہوں نے وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، وزارتِ منصوبہ بندی اور این ڈی ایم اے کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر مربوط حکمتِ عملی تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی۔وزیرِ اعظم نے پانی کے بہتر انتظام کے لیے نیشنل واٹر کونسل کا اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کا بھی حکم دیا، تاکہ قومی سطح پر جامع منصوبہ بندی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔اجلاس کے دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی جانب سے قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ پیش کی گئی۔ وزیرِ اعظم نے قلیل مدتی منصوبے کی منظوری دیتے ہوئے فوری عملدرآمد کا حکم دیا۔اس موقع پر وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اور ہر تیسرے سال موسمیاتی تبدیلی کے باعث جی ڈی پی کا بڑا حصہ متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ قیمتی اور محدود وسائل ترقیاتی منصوبوں کے بجائے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے پر خرچ کرنا پڑتے ہیں، جبکہ پاکستان کا عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کو آئندہ مون سون کے حوالے سے عالمی تخمینوں اور ممکنہ اثرات پر بھی بریفنگ دی گئی۔